اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہے۔ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر سخت تشویش ہے۔ پاکستان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ تنازع کو مذاکرات کی میز پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کشیدگی ختم ہو اور تکنیکی مذاکرات شروع ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد نارمل ہو جائے گی۔ پاکستان موجودہ علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان آبنائے ہرمز سے تجارت، پیٹرولیم مصنوعات کی باآسانی فراہمی پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان فریقین پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے زور دیتا ہے، کیونکہ تنازع کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ تمام فریق کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ترجمان نے کہا کہ امن اور باہمی احترام کے حصول کے لیے اسلام آباد ایم او یو جیسی دستاویز موجود ہے۔ توقع ہے فریقین ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی سے تنازع کا حل تلاش کریں گے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا پوری دنیا پر اثر پڑ رہا ہے۔ پاکستان اہم ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے ۔ 10 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر کے ساتھ اہم گفتگو ہوئی، وزیراعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ضبط و تحمل پر زور دیا۔ ایرانی صدر نے بھی پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سالمیت و علاقائی خودمختاری کی حمایت کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔طاہر اندرابی کا پریس بریفنگ میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے ۔ اسلام آباد ایم او یو اپنی جگہ قائم ہے ۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ دونوں فریقین اس کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ ہم کسی بھی ملک کی جانب سے ہتھیاروں کے استمعال کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی ایک چیلنج ہے۔ قیام امن کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ منطقی طور پر اسلام آباد ایم او یو قائم ہے، جو امن کے لیے بات چیت کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تنازع کے دوران مختلف مراحل پر بھی پاکستان کا مؤقف یکساں رہا ہے۔ پاکستان تمام ممالک کی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ڈائیلاگ، امن اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے۔ فریقین نے جب بھی بات چیت کا فیصلہ کیا، اسلام آباد ایم او یو اور پاک قطر مشترکہ بیان بات چیت کی بنیاد فراہم کرے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارتی کے حوالے سے بات چیت کے کئی ادوار ہو چکے ہیں۔ پاک امریکا تجارتی مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔پاکستان افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مدد دے رہا ہے۔ پاکستان نے کبھی انسانی امداد لے جانے والے قافلوں کو نہیں روکا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انسانی ضروریات پر امدادی جواب دینے کی کوشیش کر رہا ہے۔ پاکستان انسانی ضروریات پر امدادی سامان کے 45 ٹرک روانہ کر چکا ہے، تاہم افغانستان ان کو اجازت دینے سے انکاری ہے۔ افغانستان کے معاملے پر ابھی تک کوئی برف نہیں پگھلی۔ جب تک افغانستان دہشت گردوں اور دہشت گردی کی پشت پناہی ختم نہیں کرتا یہ برف نہیں پگھل سکتی۔ ایس سی او کا رکن بننے کے لیے افغانستان کے رکن ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ہونے چاہییں۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔ 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق امیر قطر کے انتقال پر دوحا کا دورہ کیا ۔ 6 سے 9 جولائی تک صدر آصف علی زرداری نے کرغزستان کا دورہ کیا۔ 21 برس بعد کسی بھی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ 9 جولائی کو کروشیا کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان اور کروشیا کے درمیان کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو فروغ دینے سمیت اہم امور پر بات ہوئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان برطانیہ میں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ ملزم برطانوی شہری ہے ،جس کی زندگی کا بڑا حصہ برطانیہ ہی میں گزرا ہے۔ اس کی جائے پیدائش سے قطع نظر اس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ برطانیہ میں گزرا ۔ برطانوی حکومت اپنے قانونی تقاضے پورے کرے۔ پاکستان کا برطانیہ میں رونما ہونے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے کیخلاف بھارتی اداروں کی چارج شیٹ کی مذمت کرتا ہے۔ بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق خود ارادیت سے محروم کرنا ہے۔ چارج شیٹ ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی ادارے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ پریس بریفنگ دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان کو پہلگام واقعے سے نتھی کرنے کی کوششیں بے بنیاد ہیں ۔ بھارت آج تک پہلگام واقعے کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کر پایا۔ پاکستان کی طرف سے تحقیقات کے مطالبے کے باوجود بھارت غیر جانبدار تحقیقات سے گریزاں ہے۔ حقیقت کو سامنے لانے کے بجائے بھارت میڈیا پر سنسنی خیزی میں مصروف ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور پرتگال کے درمیان اسلام آباد میں دوطرفہ بات چیت کا دور ہوا۔ترجمان کے مطابق سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 پر عملدرآمد کے حوالے سے پاکستان نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ قرارداد 1540 وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق ہے ۔ ایٹمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان گزشتہ 22 برس سے اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے۔ پاکستان اوسط ہر 3 برس بعد وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں رپورٹ پیش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں مسلح حملہ اور پولیس ملازمین کا قتل عام ایک اندوہناک واقعہ ہے۔ بھارت پاکستانی سویلین کے قتل عام پر میڈیا میں کھلے عام خوشیاں مناتا ہے۔




