جولائی 16, 2026

کیا ذہنی دباؤ واقعی بیمار کر سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم حقائق بتا دیے

ذہنی دباؤ نظر نہ آنے والی صرف ایک جذباتی کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق وقتی دباؤ بعض اوقات فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن مسلسل اور طویل عرصے تک رہنے والا دباؤ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام، دل، نظامِ ہاضمہ، نیند اور ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔س کے نتیجے میں بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور جسم کی صحت یابی کا عمل بھی سُست ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی دباؤ سے بلند فشارِ خون، دل کی بیماریوں، معدے کی خرابی، تیزابیت، اپھارہ، بھوک میں تبدیلی اور نیند کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بار بار سر درد، تھکن، پٹھوں میں کھچاؤ، توجہ کی کمی اور جذباتی تھکن بھی اس کی عام علامات ہیں۔تحقیق کے مطابق زیادہ دباؤ مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتا ہے جس سے جسم جراثیم اور وائرس کے خلاف مؤثر انداز میں دفاع نہیں کر پاتا، مسلسل دباؤ جسم میں سوزش کو بھی بڑھا سکتا ہے جو کئی بیماریوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ دباؤ کا شکار افراد، مریضوں یا بچوں کی نگہداشت کرنے والے افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض، ذہنی مسائل سے دو چار افراد اور شفٹوں میں کام کرنے والے ملازمین زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔صحت بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ ورزش، مراقبہ، معیاری نیند، متوازن غذا اور اہلِ خانہ و دوستوں کی معاونت کو مؤثر طریقے قرار دیا گیا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بے چینی، شدید تھکن، نیند کی مسلسل خرابی یا جسمانی علامات برقرار رہیں تو ماہرِ صحت سے فوری مشورہ کریں۔ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ اگر قابو میں رکھا جائے تو یہ حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن نظر انداز کرنے کی صورت میں یہ کئی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔