گوگل نے اپنے آئندہ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 17 کا دوسرا بیٹا ورژن اہل پکسل ڈیوائسز کے لیے اینڈرائیڈ بیٹا پروگرام کے تحت جاری کر دیا ہے۔اس ورژن میں نئی خصوصیات اور سکیورٹی میں مزید جدت شامل کی گئی ہے، سیرئین عرب نیوز ایجنسی کے مطابق اینڈرائیڈ ڈویلپرز بلاگ پر جاری ایک پوسٹ میں کمپنی نے کہا کہ اس اپ ڈیٹ کا مقصد کارکردگی کو بہتر بنانا، توانائی کی بچت میں اضافہ کرنا اور پرائیویسی و سکیورٹی کے ٹولز کو مزید مضبوط بنانا ہے۔نئی خصوصیات میں ایک فیچر شامل ہے جس کے ذریعے صارفین ٹاسک بار میں کسی ایپ کے آئیکن کو دیر تک دبانے سے فلوٹنگ ایپ ببل بنا سکتے ہیں، جس سے ایپس کو ملٹی ونڈو موڈ میں چلایا جا سکے گا۔اس اپ ڈیٹ میں ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) کے تحفظ کو بھی وسعت دی گئی ہے تاکہ ڈیجیٹل فراڈ کی کوششوں کو کم کیا جا سکے۔گوگل نے ایک نیا ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) بھی متعارف کرایا ہے جسے “آئی ڈروپر” کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے صارفین اسکرین پر دکھائی دینے والے کسی بھی پکسل سے رنگ منتخب کر سکیں گے اور اس کے لیے اضافی اجازت درکار نہیں ہوگی۔کمپنی نے کانٹیکٹ پکر ٹول کو بھی دوبارہ ڈیزائن کیا ہے تاکہ صارف کے ڈیٹا تک عارضی اور محدود رسائی فراہم کی جا سکے۔اس کے علاوہ گوگل نے “ہینڈ آف” نامی فیچر بھی شامل کیا ہے، جس سے صارفین مختلف اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے درمیان اپنا کام دوبارہ وہیں سے شروع کر سکیں گے۔اس فیچر کا مقصد اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور فولڈیبل ڈیوائسز کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ کے دوران بیٹا ٹیسٹنگ جاری رکھے گی، جس کے بعد اینڈرائیڈ 17 کے مستحکم (سٹیبل) ورژن کو باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔




