اسلام آباد:30ویں سالانہ بین الاقوامی پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں کیا گیا، جسے طبی تعلیم اور تحقیق میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی کاوشوں کے باعث صحت کے شعبے میں اصلاحات اور جدید طبی تحقیق کو نئی جہت ملی ہے۔پاکستان کا صحت کا شعبہ بڑھتی صلاحیت، جدت اور سرمایہ کاری کی کشش کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن رہا ہے اور اسی سلسلے میں پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز (PAPS) کی 30 ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی ہے۔کانفرنس میں 400 سے زائد مندوبین، 12 بین الاقوامی ماہرین اور ملک بھر کے ممتاز تدریسی اداروں کے سرجنز نے بھرپور شرکت کی۔کانفرنس کے دوران شرکا کی فعال شرکت، سائنسی مباحثے اور نیٹ ورکنگ سیشنز نمایاں رہے جبکہ نان انویسو جمالیاتی طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی پر خصوصی سیشنز اور لائیو ڈیمانسٹریشنز بھی پیش کیے گئے۔
ایس آئی ایف سی کی معاونت نے صحت کے شعبے میں نئی جہتیں پیدا کرکے عالمی سطح پر ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے کانفرنس میں شرکت پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز ہے ۔ منعقدہ تعلیمی سیشنز شرکا کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گےاس موقع پر شفا انٹرنیشنل اسپتال کے پروفیسر مامون رشید نے کہا ہے کہ کانفرنس کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز ہے اور تعلیمی سیشنز نہایت مفید ہیں۔ استنبول سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شرفیتکے نے کانفرنس کو خوشگوار اور مفید علمی تجربہ قرار دیتے ہوئے اسے جونیئر اور سینئر سرجنز کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔بنگلا دیش سے آئے ڈاکٹر سعید احمد صدیقی نے کانفرنس کے سائنسی معیار کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان پلاسٹک سرجری کے شعبے میں تعاون کے منتظر ہیں۔




