ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں ذیابیطس، کولیسٹرول کے مسائل، ہارمونز کے بگاڑ اور وٹامن ڈی کی کمی کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق رات کی ڈیوٹی جسم کے قدرتی نظام یعنی سرکیڈین ردھم کو متاثر کرتی ہے جس سے جسم کی اندرونی کیمیا اور ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
تحقیق سے سامنے آنے والا اہم نتائج:
انسولین مزاحمت: رات کی شفٹ میں کام کرنے والے 77 فیصد افراد میں انسولین مزاحمت دیکھی گئی جبکہ دن میں کام کرنے والوں میں یہ شرح 62 فیصد رہی، یہ ذیابیطس ٹائپ 2 کی بڑی علامت ہے۔کولیسٹرول میں بگاڑ: رات کی ڈیوٹی کرنے والے افراد میں ٹرائی گلیسرائیڈز زیادہ اور اچھا کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کم پایا گیا جو دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ہارمونل تبدیلیاں: مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون اور لیوٹنائزنگ ہارمون کی سطح کم جبکہ خواتین میں ایسٹروجن کی سطح زیادہ پائی گئی۔وٹامن ڈی کی کمی: رات کی شفٹ کرنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کمی زیادہ دیکھی گئی جس کی بڑی وجہ دھوپ کی کمی ہے۔
وجہ کیا ہے؟
محققین کے مطابق رات کو کام کرنے سے جسم کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے جس سے ہارمونز جیسے کورٹیسول اور انسولین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور جسم چکنائی اور شکر کو درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔
ماہرین کا مشورہ:
طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ صحت مند اور متوازن زندگی کے لیے باقاعدہ اور مکمل نیند کو یقینی بنائیں، متوازن اور ہلکی غذا استعمال کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں، روزانہ ورزش کو معمول بنائیں، ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مراقبہ کریں اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کرواتے رہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ رات کی شفٹ ناگزیر ہو سکتی ہے لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے صحت کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔




