جولائی 11, 2026

ایپل نے اوپن اے آئی پر مقدمہ کر دیا

ایپل نے تجارتی راز چوری کرنے کے الزام میں اوپن اے آئی اور دو سابق ملازمین کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔روئٹرز کے مطابق ایپل نے جمعہ کو اوپن اے آئی اور اپنے دو سابق ملازمین کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان افراد نے اس کے تجارتی رازوں کا غلط استعمال کیا، تاکہ چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی کو صارفین کے لیے ہارڈویئر تیار کرنے کے منصوبے میں فائدہ پہنچایا جا سکے۔اس مقدمے سے دونوں کمپنیوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں زیادہ شدت آ گئی ہے۔ایپل کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے منصوبہ بندی کے تحت اپنے سابق ملازمین، بھرتی کے عمل اور سپلائرز کے ذریعے ایپل کی خفیہ معلومات حاصل کیں اور اپنے ہارڈویئر منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ان سے فائدہ اٹھایا۔دوسری طرف اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا ’’ہمیں دیگر کمپنیوں کے تجارتی رازوں میں کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ ہم بدستور ایسی جدید ٹیکنالوجی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو دنیا بھر کے لوگوں کو بااختیار بنائے۔‘‘یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ڈیوائسز کی دوڑ سے بھی متعلق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اپنا فون یا کوئی اور ڈیوائس بنا رہی ہے۔ یہ ڈیوائسز روایتی ایپس یا آپریٹنگ سسٹمز کے بغیر بھی کام کر سکتی ہیں۔ اگر اوپن اے آئی اس میں کامیاب ہو گئی تو صارفین کی توجہ آئی فون سے ہٹ سکتی ہے۔مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات تیار کرنے کی دوڑ میں شدت آنے کے باعث ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور ملکیتی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ گیا ہے، جس سے دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔پی پی فورسائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور کے مطابق ایپل اب اوپن اے آئی کو صرف اپنا شراکت دار نہیں بلکہ ایک ممکنہ حریف سمجھ رہا ہے، جب کہ اوپن اے آئی آئی فون پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتی ہے، اور صارفین تک براہِ راست پہنچنے کے لیے اپنی ہارڈویئر ڈیوائسز تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تجزیہ کار کے مطابق اگر اس مقدمے کے الزامات ثابت نہ بھی ہوں، تب بھی یہ قانونی کارروائی اوپن اے آئی کے ہارڈویئر منصوبوں میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔ اس مقدمے سے ایپل اور اوپن اے آئی کے درمیان شراکت داری مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ اور دونوں کمپنیوں کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ایپل نے یہ مقدمہ شمالی ضلع کیلیفورنیا کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر کیا ہے، واضح رہے کہ حال ہی میں اوپن اے آئی نے ایلون مسک کی کمپنی xAI کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی چیلنج کا بھی کامیابی سے سامنا کیا ہے۔مقدمے میں نامزد ایپل کے 2 سابق ملازمین میں سابق سینئر سسٹمز الیکٹریکل انجینئر چینگ لیو (Chang Liu) اور آئی فون و ایپل واچ کے سابق نائب صدر برائے پروڈکٹ ڈیزائن تانگ یُو تان (Tang Yew Tan) شامل ہیں۔ایپل نے الزام لگایا کہ لیو نے کمپنی کی جانب سے دیا گیا کام کا لیپ ٹاپ واپس نہیں کیا اور بعد میں تصدیقی نظام کی ایک خامی استعمال کرتے ہوئے ایپل کے اندرونی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی، جہاں سے اس نے ’’ایپل کی ہارڈویئر سے متعلق درجنوں خفیہ فائلیں‘‘ ڈاؤن لوڈ کیں۔ایپل کے مطابق اوپن اے آئی کے ہارڈویئر سربراہ تان نے ایپل چھوڑنے سے پہلے ’’طریقہ کار کے ساتھ ایپل کی خفیہ معلومات کو اوپن اے آئی کے فائدے کے لیے استعمال کیا۔‘‘ ایپل کے مطابق تان نے ایپل کے سپلائرز اور اندرونی صنعتی خلاصوں سے متعلق معلومات خود کو ای میل کیں۔ تان نے ایپل میں اپنے 24 سالہ دورِ ملازمت کے بیش تر عرصے میں آئی فون کے شعبے میں کام کیا، جس کی تفصیل ان کے لنکڈ اِن صفحے پر موجود ہے۔ایپل نے الزام لگایا کہ تان نے ایپل کے ملازمین کو ترغیب دی کہ وہ اوپن اے آئی میں ملازمت کے انٹرویوز کے دوران ’’دکھانے اور بتانے‘‘ کے سیشنز کے لیے ایپل کے پرزے ساتھ لائیں۔ ایپل نے اپنی قانونی درخواست میں ایک واقعے کا حوالہ دیا، جس میں اوپن اے آئی کے ایک امیدوار نے مبینہ طور پر کہا ’’مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم دفتر سے یہ چیزیں لے جا سکتے ہیں۔‘‘