امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای روپوش رہنے کے باوجود ایران کی جنگی حکمت عملیوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ سے واقف متعدد ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز میں ممکنہ طور پر زخمی ہونے کے بعد امریکا اور ایران کے جاری مذاکرات اور جنگی حکمت عملیوں میں ہدایات دے رہے ہیں۔اگرچہ امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر مبینہ طور پر قطعی اختیار ابھی تک واضح نہیں ہے تاہم مجتبیٰ خامنہ ای دیگر سینئر ایرانی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سپریم لیڈر سفارتی حکمت عملی میں فعال طور پر شامل ہیں۔تاہم دوسری جانے صورتحال سے واقف ایک علیحدہ ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ خامنہ ای اس پوری جنگی صورتحال میں معمولی کردار ادا کررہے ہیں۔




