مئی 9, 2026

نومولود بچوں کیلئے وٹامن K کا انجیکشن کیوں ضروری؟ ڈاکٹروں نے والدین کو اہم وارننگ دیدی

امریکا میں نومولود بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد لگائے جانے والے وٹامن K کے انجیکشن سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس پر طبی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس انجیکشن سے انکار کے باعث کئی نومولود ایک خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا بیماری وٹامن کے ڈیفیشنسی بلیڈنگ (VKDB) کا شکار ہو رہے ہیں، جس میں جسم کے اندر شدید خون بہنے لگتا ہے۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کے جسم میں قدرتی طور پر وٹامن کے کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، جبکہ ماں کے دودھ میں بھی یہ وٹامن محدود مقدار میں موجود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد بچوں کو وٹامن کے کا انجیکشن دیا جاتا ہے تاکہ خون جمنے کا عمل درست طریقے سے جاری رہ سکے۔وٹامن کے خون جمنے، ہڈیوں کی مضبوطی اور جسم کے مختلف اہم افعال کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، اگر نومولود کے جسم میں اس وٹامن کی کمی ہو تو معمولی چوٹ یا اندرونی خون کا بہاؤ بھی خطرناک صورتِ حال اختیار کر سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق انجیکشن نہ لگوانے والے بعض بچوں میں اچانک دماغی خون بہنا، دورے پڑنا اور سانس کی ناکامی جیسے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں۔دسمبر میں شائع ہونے والی ایک قومی تحقیق کے مطابق 2024ء میں تقریباً 5 فیصد نومولود بچوں کو وٹامن کے کا انجیکشن نہیں لگایا گیا، جو 2017ء کے مقابلے میں 77 فیصد زیادہ ہے، بعض اسپتالوں میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس مسئلے کی بڑی وجہ بن رہی ہیں، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وٹامن کے کے انجیکشن سے کینسر یا لیوکیمیا ہو سکتا ہے، حالانکہ سائنسدان برسوں پہلے ان دعوؤں کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ماہرین نے واضح کیا ہے کہ وٹامن کے کے انجیکشن کوئی ویکسین نہیں بلکہ ایک حفاظتی طبی اقدام ہے، جو نومولود بچوں کو خطرناک خون بہنے سے بچانے کے لیے دیا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسیی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔