اپریل 25, 2026

یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

نیویارک: عالمی شہرت یافتہ یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن المعروف مسٹر بیسٹ ایک نئے تنازع کی زد میں آگئے ہیں، ان کی کمپنی پر ایک سابق خاتون ملازمہ نے جنسی ہراسانی، صنفی امتیاز اور زچگی کی چھٹی کے بعد ملازمت سے نکالنے جیسے سنگین الزامات لگائے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسٹر بیسٹ کی کمپنی کی سابق سوشل میڈیا منیجر لورین میورومیٹس نے نارتھ کیرولینا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں زچگی کی چھٹی ختم ہونے کے محض تین ہفتے بعد ہی ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، حالانکہ وہ طویل عرصے سے کمپنی میں کام کررہی تھیں۔خاتون کا کہنا تھا کہ دورانِ حمل اور زچگی کے وقت بھی ان پر کام کا دباؤ تھا، یہاں تک کہ وہ اسپتال میں بھی میٹنگز میں شریک ہوتی رہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انکار کی صورت میں نوکری سے نہ نکال دیا جائے۔رپورٹس کے مطابق مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کا ماحول خواتین کے لیے انتہائی غیر مناسب اور تضحیک آمیز تھا، جبکہ کمپنی کے سی ای او جیمز وارن کے حوالے سے بھی غیر موزوں گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے۔لورین نے بتایا کہ یہ تمام اقدامات امریکی قوانین، خصوصاً فیملی اینڈ میڈیکل لیو ایکٹ، کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔دوسری جانب مسٹر بیسٹ کی کمپنی ’بیسٹ انڈسٹریز‘ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے محض شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔کمپنی کے مطابق لورین کو ہراساں کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ تنظیمی تبدیلیوں اور ان کے عہدے کے خاتمے کے باعث ملازمت سے الگ کیا گیا۔اس کے ساتھ کمپنی نے کچھ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے جن میں ساتھی ملازمین کی جانب سے لورین کو ڈیلیوری کے دوران آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم لورین کا کہنا ہے کہ ادارے کی پالیسیوں کا دباؤ ان پر مسلسل برقرار تھا۔