اپریل 25, 2026

ذہنی دباؤ آنتوں کی صحت تباہ کر رہا ہے: ماہرین

ذہنی دباؤ انسانی جسم خصوصاً آنتوں کی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دباؤ کی حالت میں دماغ جسم کو ہنگامی کیفیت میں لے جاتا ہے جس سے ہارمون زیادہ خارج ہوتے ہیں اور نظامِ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ آنتوں میں موجود مفید جراثیم جو ہاضمے، قوتِ مدافعت اور ذہنی کیفیت کے لیے اہم ہیں، دباؤ کے باعث کم ہو جاتے ہیں جبکہ نقصان دہ جراثیم بڑھ جاتے ہیں، اس کیفیت کو ’عدم توازن‘ (hormonal imbalance) کہا جاتا ہے جو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ذہنی دباؤ آنتوں کی دیوار کو بھی کمزور کر دیتا ہے جس سے نقصان دہ مادے خون میں شامل ہو کر سوزش پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہاضمہ سست یا تیز ہو جاتا ہے جس سے پیٹ پھولنا، قبض یا دست جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنتوں اور دماغ کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے، اس لیے ذہنی سکون آنتوں کی بہتری کے لیے بے حد ضروری ہے۔
ماہرین کی تجاویز:
طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ متوازن غذا، پانی کا مناسب استعمال، روزانہ ورزش، پرسکون نیند اور ذہنی سکون کی مشقیں جیسے کہ مراقبہ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ پراسیس شدہ غذاؤں اور زیادہ چینی سے پرہیز بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ میں کمی لا کر آنتوں کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔