چین کی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنا نیا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل متعارف کرایا ہے۔واضح رہے کہ اس کمپنی نے جنوری 2025 میں اپنا آئی چیٹ بوٹ آر 1 جاری کیا تھا جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا جبکہ امریکی کمپنیوں کو کافی مالی نقصان بھی ہوا۔ایسا اس وقت ہوا جب کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس نے ایسے اے آئی ماڈل کو 60 لاکھ ڈالرز سے بھی کم لاگت میں تیار کیا ہے جو اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔اب ایک سال سے زائد عرصے بعد اس کمپنی نے اپنا نیا اے آئی چیٹ بوٹ پیش کیا ہے۔ڈیپ سیک وی 4 پرو اور ڈیپ سیک وی 4 فلیش کا پریویو ورژن 24 اپریل جاری کیا گیا اور عندیہ دیا یہ امریکی کمپنیوں جیسے اوپن اے آئی اور گوگل کے اے آئی چیٹس بوٹس کے مقابلے میں کمتر نہیں۔ڈیپ سیک کے پرانے چیٹس بوٹس کی طرح نئے چیٹ بوٹس کے لیے بھی اوپن سورس ماڈل کو اپنایا گیا ہے، یعنی ڈویلپرز اسے مفت استعمال کرکے اس کے سورس کوڈ کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرسکتے ہیں۔ڈیپ سیک وی 4 پرو نے ریاضی اور کوڈنگ کے شعبے میں دیگر اوپن ماڈلز کو شکست دینے میں کامیاب حاصل کی اور ورلڈ نالج کے شعبے میں صرف گوگل کے جیمنائی 3.1 پرو سے پیچھے ہے جو کہ بنیادی طور پر ایک کلوز ماڈل ہے۔ڈیپ سیک نے اس کا اعلان سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا۔پوسٹ کے مطابق یہ نیا چیٹ بوٹ پرفارمنس کے لحاظ سے معمولی حد تک اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 5.4 اور جیمنائی 3.1 پرو سے پیچھے ہے۔درحقیقت چینی کمپنی کا چیٹ بوٹ اس معاملے میں امریکی کمپنیوں کے چیٹ بوٹس سے 3 سے 6 ماہ پیچھے ہے۔فلیش ماڈل کسی حد تک پرو ورژن جیسا ہی ہے مگر اس میں تیز ریسپانس فراہم کیا جاتا ہے جبکہ اس کی لاگت بھی کافی کم ہے۔مگر ڈیپ سیک کے پیچھے کون ہے اور کس طرح اس کمپنی نے یہ متاثر کن کامیابی اتنے کم وقت میں حاصل کی؟اس کمپنی کی بنیاد مئی 2023 میں لیانگ وین فینگ نے گوانگ ڈونگ صوبے میں رکھی تھی۔اس کی کامیابی کا راز بظاہر یہ ہے کہ اسے کمرشل یا منافع کے حصول کی بجائے خالصتاً ریسرچ پر مبنی ادارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔2024 میں کمپنی کے ایک اولین ماڈل کو متعارف کراتے ہوئے ایک انٹرویو میں لیانگ وین فینگ نے بتایا کہ ‘ہمارا مقصد منافع کا حصول یا پیسے کا ضیاع نہیں، ہمارا آغاز دولت کمانے کے موقع سے فائدہ اٹھانا نہیں بلکہ ہم ٹیکنالوجی کو ترقی دینا چاہتے ہیں اور پورے ڈھانچے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں’۔ڈیپ سیک کے لیے سرمایہ لیانگ وین فینگ کے High-Flyer Capital نامی hedge fund سے فراہم کیا گیا جس کا آغاز انہوں نے 2015 میں Zhejiang یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا تھا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بڑی سافٹ وئیر کمپنیوں میں پروگرامر کی ملازمتوں کو نظرانداز کرکے اے آئی پر توجہ مرکوز کی۔High-Flyer Capital کے ساتھ لیانگ وین فینگ نے اے آئی کو حصص کی قیمتوں کو جاننے کے لیے استعمال کیا اور بہت زیادہ پیسہ کمایا۔2021 میں ان کے اثاثوں کی مالیت 100 ارب چینی یوآن سے تجاوز کرگئی تھی۔اسی سال ایسی افواہیں سامنے آئی تھیں کہ لیانگ وین فینگ نے Nvidia کے گرافک پراسیسنگ یونٹس کو بہت بڑی تعداد میں خریدا ہے، درحقیقت انہوں نے 10 ہزار چپس کو خریدا تھا۔2023 میں انہوں نے بتایا کہ ‘بیشتر افراد کا اس وقت خیال تھا کہ نامعلوم کاروباری منطق ان چپس کی خریداری کی وجہ ہے، مگر حقیقت تو یہ ہے ایسا میں نے تجسس کی وجہ سے کیا’۔اس کا انہیں فائدہ بھی ہوا کیونکہ 2022 میں اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے چینی کمپنیوں کو چپس کی فروخت کے حوالے سے پابندیاں عائد کیں، جس کا مقصد چین کو اے آئی کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔Nvidia کی طاقتور ایچ 100 چپ کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی، جس کے بعد کمپنی نے کم طاقتور ایچ 800 چپ کو چینی مارکیٹ کے لیے تیار کیا جس پر بھی 2023 میں پابندی عائد کر دی گئی۔لیانگ وین فینگ نے بتایا کہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج کبھی بھی سرمایہ نہیں رہا بلکہ طاقتور چپس کے حصول میں رکاوٹ سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا۔لیانگ وین فینگ ذاتی طور پر ڈیپ سیک کی تحقیقی سرگرمیوں میں شامل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کمپنی کے گوانگزو کے کیمپس کے لیے مقامی ٹیلنٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ڈیپ سیک کی کامیابی زیادہ متاثر کن ہے کیونکہ امریکا کو جدید ترین چپس کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اے آئی کے شعبے میں چین پر برتری حاصل ہے اور وہاں کی یونیورسٹیاں اس شعبے کے لیے بہترین افراد تیار کر رہی ہیں۔




