واشنگٹن: امریکا کے 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین نے تاریخ رقم کردی۔پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی ہیں، جس کے بعد امریکی کانگریس کے ایوانِ زیریں میں خواتین کی نمائندگی ایک نئے سنگِ میل تک پہنچ گئی ہے۔کامیاب ہونے والی خواتین میں نیویارک سے الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، مشی گن سے رشیدہ طلیب اور منی سوٹا سے الہان عمر بھی شامل ہیں۔ ان کی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر خواتین ارکان کی تعداد پہلی مرتبہ 100 سے تجاوز کرگئی ہے۔وسط مدتی انتخابات میں خواتین نے گورنر کے عہدوں پر بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ جارجیا سے کیشا لانس باٹمز امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں، جبکہ ٹیکساس سے جینا ہینوسا پہلی لاطینی خاتون گورنر بنیں۔اسی طرح نیو میکسیکو سے ڈیب ہالینڈ پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کے مطابق 2016 کے بعد سے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ خواتین کی نمائندگی میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔انتخابی نتائج کو امریکی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔




