جولائی 29, 2026

ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کر دی

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی پیش کردہ تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کے انتظام میں کسی تیسرے فریق یا دیگر علاقائی طاقتوں کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ عمان کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کو اپنے اپنے علاقائی پانیوں اور دائرہ اختیار کے مطابق کرنا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز خلیجی ممالک نے عمان کی اس تجویز کی حمایت کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس رقم کو جہاز رانی کی سہولت، ماحولیاتی تحفظ اور جنگ کے باعث متاثر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی پر خرچ کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور سعودی عرب عمان پر ایسے منصوبے قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے داخلی اور خارجی راستوں کے اہم حصوں پر ایران کا مؤثر کردار برقرار رہنا چاہیے اور یہی ملک کے قومی مفادات کے لیے ضروری ہے۔ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران عمان کو ایک قریبی ہمسایہ، قابلِ اعتماد دوست اور اہم ثالث سمجھتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ’50، 50 فیصد کنٹرول‘ کا ماڈل ایران کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمان کو صرف اپنے علاقائی پانیوں کے اندر آنے والے حصے کی نگرانی کرنی چاہیے جبکہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے، جو عمان کے زیرِ اختیار سمندری حدود سے گزرتے ہیں، بعض اوقات جہاز رانی کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس کے انتظام یا سکیورٹی سے متعلق کسی بھی تجویز کے عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی استحکام پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔