ستمبر 23, 2026

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے اپنی شرائط پیش کردیں

​​​​​​​نیویارک: ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے اپنی شرائط پیش کردی ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے ملاقات میں تہران کا مؤقف پہنچایا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ہرمز کھولنے کی شرائط میں امریکی بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے فوری طور پر جاری کرنا اور تمام ’مزاحمتی محاذوں‘ پر جنگ ختم کرنا شامل ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ نیویارک میں قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکا تک ایران کا پیغام پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق تہران جنگ کے تمام محاذوں پر خاتمہ، امریکی کارروائیوں کا رکنا، بحری ناکہ بندی ختم کرنا، اقتصادی جنگ کا خاتمہ اور ایرانی اثاثوں کی واپسی چاہتا ہے۔ایران پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ امریکی فوجی دباؤ اور ناکہ بندی میں کمی کی صورت میں وہ تقریباً ایک ہفتے کے اندر آبنائے کو دوبارہ کھول سکتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں جاری رابطوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی شرائط پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملہ عالمی منڈی کیلئے بھی اہم ہے کیونکہ یہ خلیج فارس سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کی بندش اور دوبارہ کھولنے سے متعلق ہر پیش رفت عالمی تیل مارکیٹ اور علاقائی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔