یمن کے جنوبی صوبے تعز میں حکومتی فورسز نے حوثی جنگجوؤں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد ایک اہم پہاڑی علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے منگل کے روز جنوبی تعز میں واقع جبل قرن پر مکمل کنٹرول قائم کیا۔ فوجی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز کو مقامی مزاحمتی گروپوں کی بھی حمایت حاصل رہی۔ تعز کے فوجی محور کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالعزیز المجیدی نے مسلح افواج کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ بنی عمر کے مقامی افراد پر مشتمل عوامی مزاحمت نے بھی حکومتی فورسز کے ساتھ مل کر جبل قرن پر کنٹرول مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔یمنی فوجی حکام کے مطابق جھڑپوں کے دوران 5 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک اور تقریباً 20 زخمی ہوئے۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ تعداد یمنی حکومتی فورسز کی جانب سے جاری کردہ دعوے پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔عبدالعزیز المجیدی کے مطابق لڑائی کے باوجود حوثی جنگجو فوجی ٹھکانوں پر مارٹر گولوں سے حملے جاری رکھتے رہے۔ حکومتی فورسز نے علاقے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ تعز طویل عرصے سے یمن کی جنگ میں ایک اہم محاذ رہا ہے، جہاں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان مختلف اوقات میں شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ جبل قرن پر کنٹرول حکومتی فورسز کے لیے مقامی محاذ پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم علاقے کی مجموعی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔




