ستمبر 23, 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع؛ 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان

اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے شروع ہو رہے ہیں، جس کی کامیابی پر 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت اقتصادی جائزے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے مذاکرات 2 ہفتے جاری رہیں گے اور کامیابی کی صورت میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر تک ملنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن آج سے اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گا۔ پہلے مرحلے میں اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی مذاکرات کیے جائیں گے، جس میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، بنیادی شرح سود اور ایکسچینج ریٹ پر بات ہوگی، جبکہ اسٹیٹ بینک حکام آئی ایم ایف وفد کو معاشی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زیادہ رکھنے کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ آئی ایم ایف وفد کو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مشن کو یورو بانڈ کے کامیاب اجرا اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد اسٹیٹ بینک سے مذاکرات کے بعد 25 ستمبر کو اسلام آباد روانہ ہوگا، جہاں وزارت خزانہ، نجکاری، توانائی اور ایف بی آر کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے۔قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے بات چیت 2 ہفتے جاری رہے گی، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے کے مشن کو جون تک کی معاشی سرگرمیوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت اہداف پر بھی بات ہوگی، جبکہ پاکستان معاشی اصلاحات کے اہداف پر عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کرے گا۔ مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ بجلی اور گیس کے شعبوں کے سرکلر ڈیٹ سے متعلق اہداف بھی زیر بحث آئیں گے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے پر پاکستان کو مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر تک ملنے کا امکان ہے، جس میں ای ایف ایف کی قسط کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مزید 20 کروڑ ڈالر ملنے کا بھی امکان ہے۔