جولائی 18, 2026

20، 40 اور 60 سال کی عمر میں خواتین کو کس غذائی کمی کا سامنا ہوتا ہے؟ ماہرین کی اہم ہدایات

خواتین کی غذائی ضرورتیں عمر کے مختلف مراحل میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اسی لیے ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ 20، 40 اور 60 سال کی عمر میں بعض مخصوص غذائی اجزاء کی کمی خواتین کی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق 20 سال کی عمر میں آئرن اور فولیٹ کی کمی سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہے، اس عمر کی خواتین میں آئرن کی کمی تھکن، کمزوری اور ذہنی جھنجھلاہٹ (برین فوگ) کا سبب بن سکتی ہے جبکہ فولیٹ جسم میں نئے خلیات کی تشکیل اور حمل کے دوران بچے کی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔40 سال کی عمر میں ہارمونز میں تبدیلیوں کے باعث میگنیشیئم، وٹامن ڈی اور کیلشیئم کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ان اجزاء کی کمی کے سبب اکثر خواتین میں نیند کے مسائل، پٹھوں میں کھچاؤ، بے چینی اور ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔60 سال کی عمر کے بعد جسم غذائی اجزاء کو پہلے جیسی مؤثر انداز میں جذب نہیں کر پاتا، اس مرحلے پر وٹامن بی 12 اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی کمی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔وٹامن بی 12 کی کمی اعصابی مسائل، یادداشت کی خرابی اور مسلسل تھکن کا باعث بن سکتی ہے جبکہ اومیگا 3 کو دل، دماغ اور جوڑوں کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ امراضِ نسواں کے مطابق بہت سی خواتین تھکن، بالوں کے جھڑنے اور مزاج میں تبدیلی جیسی علامات کو معمولی سمجھتی ہیں حالانکہ یہ شدید غذائی کمی کی نشاندہی ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف عام ملٹی وٹامنز پر انحصار کافی نہیں، بلکہ عمر، خون کے ٹیسٹ کے نتائج اور ڈاکٹر کے مشورے سے ضرورت کے مطابق علاج اور غذائی سپلیمنٹس استعمال کیے جانے چاہئیں۔ماہرین کے مطابق متوازن غذا، بر وقت طبی معائنہ اور عمر کے مطابق غذائی ضروریات پر توجہ دے کر خواتین ہڈیوں، دل، دماغ اور مجموعی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔