جون 14, 2026

وزن گھٹانے والی دوائیں بڑھاپے کی رفتار بھی سست کر سکتی ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مشہور دوا اوزیمپک اور دیگر جی ایل پی-1 ادویات شاید جسمانی یا حیاتیاتی بڑھاپے (بائیولوجیکل ایجنگ) کی رفتار کو بھی سست کر سکتی ہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی جانب سے شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سیماگلوٹائیڈ پر مبنی جی ایل پی-1 ادویات ممکنہ طور پر جسم کے خلیات کو دوبارہ پروگرام کر رہی ہیں، جس سے مدافعتی نظام زیادہ مؤثر بنتا ہے اور جسم میں سوزش کم ہوتی ہے۔ نتیجتاً خلیاتی سطح پر جسم کے زوال یا بڑھاپے کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔اس سے پہلے قبل بھی جی ایل پی-1 ادویات کے متعدد طبی فوائد سامنے آ چکے ہیں اور سان ڈیاگو کی تحقیقی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ فوائد ممکنہ طور پر حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار میں کمی سے جڑے ہو سکتے ہیں۔تاہم، محققین نے واضح کیا ہے کہ اس پورے عمل کو سمجھنے کے لیے ابھی مزید تحقیق درکار ہے۔اس تحقیق سے وابستہ پروفیسر مائیکل کورلے نے کہا کہ سائنس دان یہ نہیں کہہ رہے کہ سیماگلوٹائیڈ بڑھاپے کو الٹ دیتی ہے یا لوگوں کو دوبارہ جوان بنا دیتی ہے لیکن ٹیم کو ایسے شواہد ضرور مل رہے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ عمر بڑھنے سے وابستہ بعض حیاتیاتی عملوں کی رفتار کو کم کر سکتی ہے۔اس وقت تقریباً تین کروڑ امریکی جی ایل پی-1 ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دوائیں صرف وزن کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ٹائپ 2 ذیا بیطس اور دل کی بیماریوں سمیت دیگر طبی مسائل کے علاج میں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔