جون 14, 2026

ایران امریکا امن معاہدہ آج متوقع؟ ٹرمپ کا دعویٰ، تہران نے وقت کے تعین سے اختلاف کردیا

واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے پر آج دستخط ہوسکتے ہیں، تاہم ایران نے اس ٹائم لائن سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ ’آئندہ چند دنوں‘ میں ممکن ہےبین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کی جانے والی دستاویز آخری مراحل میں ہے اور جلد اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مستقبل میں ایران کا جوہری مواد امریکا کے کنٹرول میں آ سکتا ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے معاہدے کی اصولی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دستاویز پر غور جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دستخط آج ہی ہوں گے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق معاہدہ آئندہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔ادھر خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ جنوبی لبنان میں دھماکوں اور اسرائیلی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جامع جنگ بندی کرنی ہے تو اس کا اطلاق لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونا چاہیے۔اسی دوران ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران کے مرحوم رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفینی تقریبات کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 4 جولائی کو تہران میں جنازے کی تقریبات کا آغاز ہوگا جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں تدفین کی جائے گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کی اہم ترین سفارتی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔