مئی 2, 2026

عالمی ادارۂ صحت کی نومولود بچوں کیلئے ملیریا کی پہلی محفوظ دوا کی منظوری

عالمی ادارۂ صحت نے نومولود بچوں کے لیے ملیریا کے علاج کی پہلی محفوظ دوا کی منظوری دے دی جسے صحتِ عامہ کے لیے بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اس نئی دوا کے ذریعے اب ایسے بچوں کا محفوظ علاج ممکن ہو گا جن کا وزن 2 کلو گرام تک ہو۔اس سے پہلے کم عمر کے بچوں کو بڑے بچوں کی دوائیں دی جاتی تھیں جس سے غلط مقدار، مضر اثرات اور زہریلے اثرات کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔عالی ادارۂ صحت کے مطابق ترقی کے باوجود ملیریا اب بھی عالمی سطح پر ایک سنگین صحت کا مسئلہ بنا ہوا ہے، افریقا کے کئی علاقوں میں 6 ماہ سے کم عمر بچوں میں ملیریا کی شرح 18 فیصد تک ہے۔2024ء میں اس بیماری کے اندازاً 282 ملین کیسز اور اس سے 610000 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق افریقی خطہ سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں 11 ممالک عالمی سطح پر تقریباً دو تہائی کیسز اور اموات کے ساتھ سرِ فہرست ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملیریا سے اموات کی شرح میں کمی لانے کی کوششیں اب بھی مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکیں اور ہدف سے کافی پیچھے ہیں۔نئی دوا دو مؤثر اجزاء پر مشتمل ہے اور اسے ایسے ذائقے میں تیار کیا گیا ہے جو بچوں کے لیے پینا آسان ہو، اس دوا کو دودھ میں حل کر کے بھی دیا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس غلط تصور کو بھی رد کرتی ہے کہ نومولود بچوں کو ماں سے ملی قوتِ مدافعت کے باعث ملیریا نہیں ہوتا۔دوا کا گھانا میں استعمال جاری ہے جہاں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔دوا بنانے والی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اسے ملیریا سے متاثرہ ممالک میں کم قیمت پر فراہم کیا جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ویکسین، بہتر تشخیص اور جدید مچھر دانیوں کے ساتھ یہ دوا ملیریا کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرے گی۔