مارچ 6, 2026

سائنس دانوں نے اے آئی کی مدد سے بیٹری ٹیکنالوجی میں اہم کامیابی حاصل کرلی

حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ الٹرا‑پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال پھیپڑوں کے کینسر کے خطرے کو تقریباً 41 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔مذکورہ بالا تحقیق میں تقریباً 101,700 امریکی بالغوں کا ڈیٹا 12 سال تک فالو کیا گیا جن میں سے 1,706 افراد کو پھیپڑوں کا کینسر لاحق ہوا۔اُن افراد میں جو روزانہ زیادہ مقدار میں الٹرا‑پروسیسڈ خوراک استعمال کرتے تھے، پھیپڑوں کے کینسر کا خطرہ 41% زیادہ تھا، جبکہ تجزیے میں سگریٹ نوشی اور عمومی غذائی معیار کو بھی مدنظر رکھا گیا۔واضح رہے کہ یہ تحقیق صرف ایک مشاہداتی مطالعہ ہے۔ یعنی یہ سبب و معلول ثابت نہیں کرتا بلکہ صرف ایک اعداد و شمار کا ملاپ پیش کرتا ہے۔مزید برآں غذائی رجحانات وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے الٹرا پروسیسڈ فوڈز میں کولڈ ڈرنک، انڈسٹریل اسنیکس، انسٹنٹ نوڈلز، فروزن کھانے، پراسیسڈ گوشت، کیک، پیزا وغیرہ کو شامل کیا ہے۔یہ غذائیں عام طور پر بےحد نمک، چکنائی، شکر اور کیمیکل پر مشتمل ہوتی ہیں اور سبزی، پھل اور دیگر غذائی اجزا میں قلیل ہوتی ہیں۔ایک آسٹریلوی تحقیق نے بتایا کہ اگر روزمرہ خوراک میں 40% یا زیادہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں شامل ہوں تو سانس کی بیماریوں کی وجہ سے موت کا خطرہ 26٪ تک بڑھ سکتا ہے۔سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ایسے نئے مٹیریل دریافت کرنے میں مدد کی ہے جو بیٹریوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔بیٹری ٹیکنالوجی سے متعلق یہ دریافت پائیدار توانائی رکھنے والی دنیا کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوسکتی ہے۔محققین پُر امید ہیں کہ بیٹریاں بہتر برقی گاڑیوں کے ساتھ فون جیسی ڈیوائسز کو بھی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہین۔ہماری موجودہ بیٹری ٹیکنالجی کو مسائل کا سامنا ہے۔ لیتھیئم آئن بیٹریاں جو ہماری زیادہ تر ڈیوائسز چلاتی ہیں، نسبتاً کم کثافت کی ہوتی ہیں، وقت کے ساتھ توانائی کھوتی ہیں اور ان کو گرمی اور دیگر تبدیلیوں سے خطرہ ہوتا ہے۔ایک طریقہ جس سے محققین پُر امید ہیں کہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے وہ ملٹی ویلنٹ بیٹریاں ہیں۔ یہ بیٹریاں لیتھیئم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں آسانی سے دستیاب عناصر سے بنائی جا سکتی اور اس کے علاوہ ان کو بنانا سستہ اور صاف ہوگا۔مزید برآں جدید ٹیکنالوجی کا مطلب ہوگا کہ یہ موجودہ بیٹریوں سے زیادہ مؤثر اور زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے والی ہوں گی۔