اکتوبر 22, 2026

مسیحی لڑکی کی عمر سے متعلق تنازع، وفاقی آئینی عدالت کا شادی شدہ جوڑے کو دوبارہ نوٹس

اسلام آباد: مبینہ کم سن مسیحی لڑکی ماریہ شادی نظر ثانی کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے شادی شدہ جوڑے شہر یار اور ماریہ کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیاقائم مقام چیف جسٹس حسن رضوی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت، جسٹس کے کے آغا نے ریماریس دیے کہ یہ نظر ثانی کا کیس ہے، وکلاء نشاندہی کریں فیصلہ میں غلطی کیا ہے۔وکیل ثاقب جیلانی نے دلائل دیے کہ فیصلے میں جن عدالتی نظائر پر انحصار کیا گیا وہ نظیریں تبدیل ہو چکی ہیں، شرعی عدالت نے نئی نظیر دی ہے جس کی تمام عدالتیں پابند ہیں۔جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے حبس بے جا کے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ دیا، لڑکی اور لڑکا عدالت میں پیش ہوئے۔ لڑکی کا برتھ سرٹیفکیٹ 10 سال بعد بنوایا گیا جبکہ لڑکی کا نادرا سرٹیفکیٹ 8 سال بعد حاصل کیا گیا۔قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لڑکی ماریہ شہباز نے عدالت میں بیان دیا وہ کم سن نہیں بلکہ بالغ ہے، لڑکی کی عمر سے متعلقہ کسی فورم پر نشاندہی نہیں کی گئی۔وکیل ثاقب جیلانی نے دلائل دیے کہ تمام عدالتی فورم پابند تھے کہ لڑکی کی ویلفیئر کو پروٹیکٹ کرتے۔جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ وفاقی عدالت کے سامنے کیس لڑکی کی عمر کا نہیں تھا، عدالت کے سامنے حبس بے جا کے ہائیکورٹ فیصلے پر اپیل تھی۔ لڑکی کے عمر پر فریقین کو چاہیے تھا فیملی کورٹ سے رجوع کرتے۔قائم مقام چیف جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ کورٹ اسٹاف کے مطابق لڑکے کو نوٹس کی تعمیل نہیں ہوئی، لڑکی لڑکے کو دوبارہ نوٹس کر رہے ہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے دلائل کے بعد شادی شدہ جوڑے شہر یار اور ماریہ کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیا۔