افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد ملک کا سماجی اور معاشی نظام سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہے جہاں بیروزگاری اور بدحالی نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔طالبان کی بدترین اور ناجائز رجیم کے زیر اثر افغانستان کا تمام تر معاشی اور سماجی ڈھانچہ مکمل تباہی کا شکار ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں ملک کا تعلیم یافتہ طبقہ شدید بیروزگاری اور معاشی بدحالی کی لپیٹ میں آ کر سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان رجیم کی نااہلی اور معاشی بدحالی نے علم بانٹنے والے اساتذہ کو درس گاہوں سے نکال کر سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث استاد قلم چھوڑ کر رکشہ چلانے پر مجبور ہو چکے ہیں اور تعلیم یافتہ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا گیا ہے۔معاشی اور تعلیمی ماہرین کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور سنگین معاشی بدحالی کی وجہ سے افغانستان میں باصلاحیت افراد کے لیے باعزت روزگار کے تمام مواقع روز بروز محدود ہوتے جا رہے ہیں جبکہ طالبان رجیم کے تحت تعلیم یافتہ افغان نوجوان شدید بے روزگاری کا شکار ہیں اور ان کا مستقبل بالکل تاریک ہو چکا ہے۔




