میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی قیمتوں میں تقریباً 10 سے 20 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرینڈفورس کی جون میں جاری کی گئی پیش گوئی میں14 سے 18 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا گیا تھا، جو اس کی تازہ ترین 10 سے 20 فیصد کی وسیع رینج کے اندر آتا ہے اور ایپل کی عمومی قیمتوں کے طریقہ کار سے بھی زیادہ مطابقت رکھتا ہے، اس طرح آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت ایک ہزار 249 سے ایک ہزار 299 ڈالر اور آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت ایک ہزار 349 سے ایک ہزار 399 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ٹرینڈ فورس کے مطابق ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون (آئی فون الٹرا) کی ابتدائی قیمت دو ہزار 99 سے دو ہزار 299 ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے اور سب سے زیادہ اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 3 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عام آئی فون 18 ماڈل کی لانچنگ2027 کے موسم بہار تک متوقع نہیں، اس کے باوجود ٹرینڈفورس کا اندازہ ہے کہ اس ڈیوائس کی قیمت میں بھی عمومی طور پر10 سے 20 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔اسی طرح قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ میموری کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔
ٹرینڈ فورس کے مطابق256GB میموری چپ کی قیمت ایک سال کے دوران تقریباً 400 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ اس کے ایک الگ تجزیے کے مطابق 256GB پرو ماڈل کی مجموعی بل آف میٹیریل (BOM) لاگت بھی اسی عرصے میں تقریباً38 فیصد بڑھ گئی ہے تاہم توقع ہے کہ ایپل اس اضافی لاگت کا کچھ حصہ صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے منافع کے مارجن میں کمی کے ذریعے برداشت کرے گا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایپل آئی فون 17 پرو میکس کی قیمت بڑھانے سے گریز کرنے میں کامیاب رہا تھا جبکہ امریکا میں آئی فون 17 پرو کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر صرف 100 ڈالر کا معمولی اضافہ کیا گیا تھا تاہم اس سال مصنوعی ذہانت (AI) کے بنیادی ڈھانچے میں بے پناہ سرمایہ کاری نے میموری کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے باعث الیکٹرونکس کی باقی صنعت بھی شدید دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی اصل قیمتوں کے حوالے سے 9 ستمبر کو ایپل کے سرپرائز اینڈ سن شائن ایونٹ کے دوران معلوم ہوجائے گا۔




