اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی نئی رپورٹ کے مطابق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 21 ممالک میں تقریباً 2 کروڑ بچے، عمر 12 سے 17 سال، ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوئے۔یہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ممالک کے بچوں کا تقریباً ہر پانچواں بچہ ہے۔ تحقیق میں تقریباً 21 ہزار بچوں سے سروے کیا گیا اور متاثرہ نوجوانوں کے تفصیلی انٹرویوز بھی کیے گئے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا یا بھیجا گیا، جبکہ تقریباً 90 لاکھ کو جنسی گفتگو یا تصاویر شیئر کرنے پر مجبور/دباؤ کا سامنا ہوا۔ نصف سے زیادہ واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم واقعات حکام کو رپورٹ کیے گئے۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جعلی جنسی تصاویر بنانے کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یونیسیف نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے پلیٹ فارم ڈیزائن، رپورٹنگ نظام اور قوانین کو مزید مضبوط کیا جائے۔




