لاہور: رانا ثنا اللہ کے جماعت اسلامی کے دھرنوں کو ناکام قرار دینے سے متعلق بیان پر حافظ نعیم الرحمان کا ردعمل سامنے آگیا۔لاہور میں دھرنے کے 10 ویں روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومتیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو وزراء کی جانب سے اسی نوعیت کے بیانات سامنے آتے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے مطالبات کے لیے احتجاج کررہی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو اسلام آباد میں بریفنگ دینے کے بجائے احتجاجی مقام پر آکر براہ راست بات چیت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس نے مذاکرات کرنے ہیں وہ یہاں آئے اور بتائے کہ پٹرولیم لیوی کب ختم ہوگی اور عوام کو ریلیف کیسے دیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی حکومتی کمیٹی کی بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائے گی۔ حکومت کو عوام کا مطالبہ سننا ہوگا، ورنہ مشکلات مزید بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی کیمپ چاروں صوبوں میں قائم ہوچکے ہیں جبکہ 12 ربیع الاول کے بعد احتجاجی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 13 ربیع الاول کو ہڑتال کی کال دی جائے گی اور دھرنے بھی جاری رہیں گے، جبکہ آئندہ مرحلے میں اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف نہ ملا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں مختلف مقامات پر سڑکوں پر بیٹھنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور ڈیزل نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، صنعتوں کے لیے بجلی سستی کی جائے اور بجلی کے بلوں سے غیرضروری اور ناجائز ٹیکس ختم کیے جائیں۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالے۔سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہر شخص کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ واقعے میں جو بھی غلطی پر ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، شفاف تحقیقات سے فوج اور نوجوانوں کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور میرٹ پر تحقیقات کے بعد کارروائی ہونی چاہیے۔




