امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اسے ایران کے خلاف ’اقتصادی یلغار‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے عالمی مالیاتی روابط کو نشانہ بنائے گا۔اسکاٹ بیسنٹ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے دیگر ممالک کے خلاف ممکنہ آئندہ پابندیوں کی تفصیلات یا ان کے نفاذ کی تاریخ بتانے سے گریز کیا۔امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ واشنگٹن ایران سے کاروباری روابط رکھنے والے ممالک پر بھی مزید پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا عالمی مالیاتی نظام کو اچانک متاثر نہیں کرنا چاہتا، تاہم متعلقہ ممالک کو خبردار کیا جارہا ہے کہ نئی کارروائی بہت جلد سامنے آسکتی ہے۔بیسنٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ رواں ہفتے کے اختتام تک ایک مالیاتی ادارے کے خلاف پابندیوں سے متعلق بڑا اعلان متوقع ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی معیشت کو سہارا دینے والے پانچ اہم شعبوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں ڈیجیٹل اثاثے، سونا، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی شامل ہیں۔امریکا کئی دہائیوں سے ایران پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کرتا آرہا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی، ہوا بازی، کرپٹو کرنسی اور ہتھیاروں کے حصول سمیت مختلف اقتصادی اور مالی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔تاہم ایران ماضی میں پابندیوں سے بچنے کے لیے نئی کمپنیوں، فرنٹ کمپنیوں اور مختلف بحری جہازوں کی رجسٹریشن کے ذریعے متبادل راستے اختیار کرتا رہا ہے۔امریکی وزیر خزانہ کے اعلان پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر واشنگٹن ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے تو پھر اسے تاریخ کی ’’سب سے بڑی مالی یلغار‘‘ کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔چین نے بھی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید اقتصادی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے گا اور اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔چین کئی برس سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اسی لیے واشنگٹن کی جانب سے چینی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر ممکنہ پابندیاں بھی اہم سمجھی جارہی ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ نے اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کے بحران کے سفارتی حل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے اور تنازعات کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ امریکی اقدامات اور چین کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ اب صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی اور مالیاتی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔




