اگست 25, 2026

بھارت میں احتجاج کچلنے کا خوفناک طریقہ؟ پولیس تشدد پر ایمنسٹی کی چونکا دینے والی رپورٹ آگئی

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں جماعت کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے مبینہ طاقت کے غیرقانونی اور خطرناک استعمال سے متعلق نئی تحقیق جاری کردی ہے۔تنظیم کے مطابق 20 سے 24 جولائی کے دوران دہلی اور ریاست بہار کے شہر سیوان میں مظاہرین کے خلاف پولیس نے پیلٹ فائرنگ، آنسو گیس، لاٹھیاں، گرینیڈز اور برقی جھٹکا دینے والے آلات استعمال کیے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس نے احتجاج کے دوران بنائی گئی ویڈیوز، تصاویر اور عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لیا، جبکہ اس کے Evidence Lab نے 19 ویڈیوز کی تصدیق کی۔ تنظیم کے مطابق ان ویڈیوز میں دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کے اہلکاروں کو احتجاجی کارروائیوں میں شامل دیکھا جاسکتا ہے۔تنظیم کے مطابق پولیس کی جانب سے استعمال کیے گئے بعض ہتھیار ایسے طریقے سے استعمال ہوئے جو بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے اصولوں اور بھارت کے اپنے پولیس ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایمنسٹی نے خاص طور پر پیلٹ فائرنگ، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور برقی جھٹکے دینے والے آلات کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دہلی کے کناٹ پلیس اور سنسد مارگ کے قریب بنائی گئی دو ویڈیوز میں ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار کو ہجوم کی جانب شاٹ گن چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔تنظیم نے مزید دو ویڈیوز کی بھی تصدیق کی جن میں دو مظاہرین کے جسم پر ایسے زخم دکھائی دیتے ہیں جو مبینہ طور پر دھاتی چھروں سے لگنے والے زخموں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ایک زخمی مظاہرین نے ایمنسٹی کو بتایا کہ پولیس نے پہلے آنسو گیس استعمال کی اور اس کے بعد مبینہ طور پر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے پیلٹ فائرنگ شروع کردی۔ اس شخص کے مطابق اس کے جسم پر تقریباً 25 سے 30 زخم آئے اور اسے علاج کے لیے اسپتال جانا پڑا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ برڈ شاٹ یا دھاتی چھروں والی گولیاں ہجوم پر قابو پانے کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ان کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ درست نشانے کے بغیر متعدد افراد کو زخمی کرسکتی ہیں۔ تنظیم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جعلی اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے اس کی کارروائی پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمع کیے گئے ویڈیو، فوٹوگرافک اور دیگر شواہد پولیس کے اس مؤقف سے متصادم ہیں۔ایمنسٹی کے مطابق ایک ویڈیو میں آنسو گیس کا گرینیڈ مظاہرین کے ایک گروپ کے قریب گرتا اور زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹتا دکھائی دیتا ہے۔ تنظیم کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ بعض مواقع پر آنسو گیس کے گرینیڈ مظاہرین کے اوپر سے زاویہ بنا کر چلانے کے بجائے براہ راست ان کی سمت پھینکے گئے۔تنظیم نے پولیس کی جانب سے لاٹھیوں کے مبینہ بے جا استعمال کا بھی دعویٰ کیا۔ ایمنسٹی کے مطابق آٹھ ویڈیوز میں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں کو ایسے مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے دیکھا جاسکتا ہے جو بظاہر کسی قسم کی مزاحمت نہیں کر رہے تھے۔ایک ویڈیو میں ایک شخص زمین پر گرنے کے بعد بھی بار بار لاٹھیوں کا نشانہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ ایمنسٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض سادہ لباس افراد نے مظاہرین کو مارا، جبکہ ان کے قریب موجود وردی پوش اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک ویڈیو میں ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار کو ایک پُرامن مظاہرین پر برقی جھٹکا دینے والا ڈنڈا استعمال کرتے دیکھا گیا۔ تنظیم نے ایسے آلات کے استعمال کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انہیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 24 جولائی کو بہار کے شہر سیوان میں بنائی گئی دو ویڈیوز میں ایک پولیس اہلکار کو مظاہرین کی جانب اے کے طرز کی رائفل سے فائرنگ کرتے دیکھا گیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ہتھیار عام طور پر جان لیوا ہوتے ہیں اور انہیں کسی اجتماع میں صرف اس صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب کسی مخصوص شخص کی جان یا سنگین زخمی ہونے کا فوری خطرہ موجود ہو۔ ایمنسٹی کے مطابق اسے ایسے کسی فوری خطرے کے شواہد نہیں ملے۔دہلی پولیس کے مطابق احتجاجی واقعات کے دوران پولیس اہلکاروں اور مظاہرین سمیت 400 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ ایمنسٹی کے مطابق سیوان میں بھی کم از کم تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک راہ گیر بھی شامل تھا جسے مبینہ طور پر گولی لگی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف آتشیں اسلحے، پیلٹ گن، آنسو گیس، لاٹھیوں اور برقی جھٹکا دینے والے آلات کے استعمال کی فوری، غیرجانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کی جائیں اور نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔تنظیم کے مطابق احتجاج کے ایک ماہ بعد بھی دہلی میں کسی پولیس اہلکار کو ان واقعات پر جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ ایمنسٹی نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جائے اور مبینہ غیرضروری یا ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔