ماہرین کے مطابق مسلسل زیادہ درجۂ حرارت کے باعث لوگوں میں چڑچڑاپن، بے چینی، تھکن، ذہنی دباؤ اور نیند کی خرابی جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے دوران جسم مسلسل خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے جس سے جسمانی تھکن اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے، پسینہ، حبس، بے آرامی اور نیند کی کمی انسان کے موڈ اور برداشت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق گرمی میں رات کے وقت اچھی نیند نہ آنا بھی پریشانی اور اضطراب کی بڑی وجہ بنتا ہے، کئی افراد بار بار جاگتے ہیں یا مکمل نیند نہیں لے پاتے جس سے ذہنی تھکن، توجہ میں کمی اور بے چینی بڑھ جاتی ہے۔پانی کی کمی بھی دماغی کارکردگی متاثر کرتی ہے، شدید گرمی یا ہیٹ ویوز کے دوران جسم میں پانی کم ہونے سے سر درد، کمزوری، چڑچڑاپن، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور گھبراہٹ جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں جو ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔شدید گرمی کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہو جاتے ہیں جس سے جسمانی سرگرمیاں اور سماجی میل جول کم ہو جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہی صورتِ حال اداسی، تنہائی اور ذہنی دباؤ کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہوں۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران زیادہ پانی پیئیں، ٹھنڈی جگہ پر آرام کریں، کیفین کا کم سے کم استعمال کریں اور صبح یا شام کے اوقات میں ہلکی ورزش لازمی کریں، گہرے سانس لینے کی مشقیں، مراقبہ اور اسکرین ٹائم کم کرنا بھی ذہنی سکون میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔




