اکتوبر 20, 2026

پشاور ہائیکورٹ: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیخلاف درخواستوں پر وفاق کو نوٹس جاری

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سمات 10 نومبر تک ملتوی کردی۔ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جن پر منگل کو جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔درخواستوں میں وفاقی و صوبائی حکومت اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے، بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی درخواست میں جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل، وفاق سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان
عدالت میں دلائل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی کا بہانہ بنا کر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، ہم نے وفاقی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمشیہ سپورٹ کیا ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہمارے 12 ممبر قومی اسمبلی اور 14 صوبائی اسمبلی ممبران کو اٹھا گیا، ہمارے ممبران کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کو ہراساں کیا جارہا ہے، ایسی چیزیں نہ کریں جو عوام میں نفرتیں پھیلاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان ہے، ہم ایک ہیں، یہ ملک ہمارا ہے، ہمارے خلاف ایسے اقدامات کیوں کئے جارہے ہیں، ہمارے گناہ کو معاف نہیں کیا جاتا؟۔ پاکستانیسیاحتبیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو چیزیں یہ کررہے ہیں ان سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں، 11 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی آوز کو تبدیل کیا گیا، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے افسران کو تبدیل کیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ
سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی سمیت دیگر ارکان غیر قانونی حراست میں ہیں، یہ اقدام غیر آئینی اور جمہوریت کے خلاف ہے، اسپیکر اور وزیر اعلی کو اس طرح غیر قانونی طریقے سے نہیں ہٹایا جا سکتا، صوبائی حکومت کو بحال کرنے کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کو بازیاب کروایا جائے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گورنر راج، ایمرجنسی کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر صوبے میں نافذ کیا گیا ہے، ایمرجنسی، گورنر راج کو غیر قانونی قرار دیے کر صوبائی اسمبلی کو بحال کیا جائے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایمرجنسی صوبائی خود مختاری اور جمہوریت پر حملہ ہے، ایمرجنسی کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد لازمی ہے جبکہ گورنر راج کیلئے صوبائی حکومت کا کام نہ کرنا ضروری ہے، سہیل آفریدی آج بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور کابینہ موجود ہے۔جسٹس اعجاز نور نے کہا کہ وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل ودیگر کو نوٹس جاری کرتے ہیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے انٹرم ریلیف مانگا ہے اس کو بھی آرڈر کریں، عدالت نے کہا کہ ہم اس کو دیکھتے ہیں آرڈر کریں گے۔
محمود اچکزئی
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے پشاور ہائیکورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں فیصلے عدالتوں میں ہوں، اگر ایسا نہ ہوا تو معاملات سڑکوں پر آئیں گے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ 1973 کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے، ہماری نواز شریف اور آصف زرداری سے کوئی دشمنی نہیں ہے، کے پی وزیر اعلیٰ چار کڑور عوام کا نمائندہ ہے جس کا مذاق اڑایا گیا، فرانس میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں لوگ نکلے اور آگ لگائی، فرانس کی پولیس نے ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ہمیں اس حکومت کے خلاف بھی پر امن احتجاج کرنا ہو گا، لڑائی کا اب آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔