اکتوبر 15, 2026

ایلون مسک نے یوکرینی فوج کے لیے اسٹارلنک پابندیوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے کہا ہے کہ یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک کے فوجی نظام میں رفتار یا استعمال کی پابندیاں اسپیس ایکس نے اپنی مرضی سے عائد نہیں کیں بلکہ ایسے فیصلے صدارتی سطح پر کیے جاتے ہیں۔مسک کے مطابق اسٹار شیلڈ نامی فوجی مواصلاتی نظام امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے، اس لیے اس کی رفتار یا استعمال محدود کرنے کا اختیار امریکی فوج اور بالآخر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے۔ رپورٹس کے مطابق یوکرینی فوج نے شکایت کی ہے کہ اسٹارلنک ٹرمینلز پر اچانک پابندی سے بعض ڈرون آپریشنز اور فضائی دفاعی مشنز متاثر ہوئے۔ بعض ٹرمینلز میں تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر کنکشن متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ یوکرین پر روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ کیف کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک کی پابندیاں اس کی دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔تاہم امریکی حکام کی جانب سے ابھی یہ واضح طور پر تصدیق نہیں کی گئی کہ ٹرمپ نے ذاتی طور پر اسٹارلنک کی رفتار محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعض امریکی حکام نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پابندی میں براہِ راست ملوث نہیں تھی۔