اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق کیس میں بیرسٹر گوہر کو بطور چیئرمین پی ٹی آئی جواب کے لیے مہلت دے دی، دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے بیان دیا کہ پی ٹی آئی اس اکاؤنٹ کو کلیم نہیں کرتی۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے غلام مرتضی کی درخواست پر سماعت کی۔ بیرسٹر گوہر علی خان ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء خالد یوسف چودھری، شمسہ کیانی، این سی سی آئی اے حکام اور دیگر بھی عدالت پیش ہوئے۔دوران سماعت، جسٹس ارباب محمد طاہر نے بیرسٹر گوہر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ذاتی طور پر نہیں بلایا تھا صرف تحریری جواب بھجوا دیتے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اس اکاؤنٹ کو کلیم نہیں کرتی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے استدعا کی کہ حالات تبدیل ہوگئے ہیں، کچھ وقت دیا جائے، جواب جمع کروا دیں گے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ہدایت کی کہ آپ کو وقت دیتے ہیں جو کہنا تحریری طور پر جمع کروا دیں، جس پر بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ عدالت تھوڑا زیادہ وقت دے، تفصیلی جواب جمع کروا دیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔بعدازاں، ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہبانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کیس میں 23 نومبر کی تاریخ دی گئی ہے، اسکے بعد جواب دائر کریں گے، کچھ مشتبہ اکاؤنٹس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی ہر فورم پر مخالفت کی ہے، گورنر راج ناجائز اور ماورائے قانون اقدام ہے، ایسے حالات نہیں تھے کہ آپ گورنر راج یا ایمرجنسی لگائیں، آپ نے پوری بیوروکریسی کو تبدیل کر دیا۔ اب ایک پوری سیاسی جماعت کو ختم کرنے کے لیے پیچھے لگے ہیں، یہ اقدامات جمہوریت کے بھی خلاف ہیں، اس کو بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کا 11 اکتوبر کے بعد سے سہیل آفریدی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، ہمارے ایم پی ایز اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے ساتھ بھی رابطہ نہیں ہو رہا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بلاول کی دعوت پر جواب دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کھوکھلے مذاکرات اور دعوؤں سے کچھ نہیں ہوتا، مذاکرات کے پیچھے تو ہماری حکومت چلی گئی۔ مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ہم بیٹھے پھر اسکو کس نے کہا چھوڑ دیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ڈیڈ لاک کی صورت میں کیا بات چیت ختم ہو جاتی ہے؟ کیا مذاکرات میں فریقین ٹیبل سے اٹھ جاتے ہیں؟ وہ کون لوگ تھے جس نے آپ کو مذاکرات کی میز سے اٹھایا اور کیوں؟




