ستمبر 2, 2026

امریکا کے تازہ حملوں میں 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر امریکا کے تازہ میزائل حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں تین مقامات کو نشانہ بنایا، جہاں 7 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے خوزستان کے ڈپٹی گورنر برائے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے امور کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ رات ہونے والے امریکی میزائل حملوں میں صوبے کے تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 8 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ لڑائی کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے بھی امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں خوزستان کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکی ہیں۔دوسری جانب ایرانی ہلال احمر نے بتایا ہے کہ جنوبی ایران کے علاقے سیریک میں ایک شادی کی تقریب بھی امریکی حملے کی زد میں آئی۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس حملے میں ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ایرانی حکام کے مطابق شادی کی تقریب میں موجود افراد بھی حملے سے متاثر ہوئے، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث علاقے کے طبی مراکز پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری جانی نقصان کے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم خوزستان میں 7 افراد کی ہلاکت اور سیریک میں شادی کی تقریب پر حملے میں 4 افراد کی ہلاکت کے دعوے نے ایران میں جنگ کے انسانی اثرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔