اگست 26, 2026

ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی معاہدہ کانگریس کو بھیج دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی کے معاہدے کو امریکی کانگریس کو بھیج دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے منصوبے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ معاہدے کو کانگریس کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے سعودی عرب میں پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال اور اس شعبے میں امریکی تعاون کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ وسیع تر جوہری معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب ریاض ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو اور اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔سعودی عرب نے اب تک اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اسی وجہ سے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سفارتی اور سکیورٹی معاملات بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام سے متعلق شرائط ہیں۔ امریکی صدر پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے سول جوہری معاہدے میں یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا جوہری پروگرام بجلی پیدا کرنے اور دیگر شہری ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔سول جوہری توانائی میں عام طور پر بجلی پیدا کرنے، طبی تحقیق، علاج، صنعتی استعمال اور سائنسی تحقیق جیسے پرامن مقاصد شامل ہوتے ہیں۔ تاہم یورینیم افزودگی کا معاملہ حساس سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی عمل کو مختلف سطحوں پر ایندھن تیار کرنے کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اس معاہدے کو خطے کی توانائی اور سفارتی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ سعودی عرب مستقبل میں اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی کو اپنے توانائی کے نظام کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔دوسری جانب واشنگٹن سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کو ایسے فریم ورک میں آگے بڑھانا چاہتا ہے جس میں جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق امریکی شرائط اور سکیورٹی تقاضے برقرار رہیں۔ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے جوہری معاہدے کو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے جوڑنے کا معاملہ بھی اس پیش رفت کو مزید اہم بناتا ہے۔ اس طرح سول جوہری تعاون کا معاملہ سعودی عرب، امریکا اور اسرائیل کے درمیان وسیع تر علاقائی سفارت کاری سے بھی جڑ گیا ہے۔معاہدے کو کانگریس بھیجے جانے کے بعد امریکی قانون سازوں کے جائزے اور ممکنہ اعتراضات بھی اہم ہوں گے۔ معاہدے کی حتمی منظوری اور اس پر عمل درآمد کے لیے آئندہ مراحل میں دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات اور قانونی کارروائی کی ضرورت ہوگی۔