ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہےمیڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو مکہ میں معاہدے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔مکہ دفاعی معاہدہ تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب اور جوہری طاقت پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی کو بھی اکٹھا کرتا ہے، جس کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج اور تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت ہے۔معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بڑھتیہوئی علاقائی غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے خطرات کے وقت تعاون اور مزاحمت کو گہرا کرتا ہے۔ترکی کے سرکاری انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اصرار کیا کہ تینوں ممالک کسی خاص ریاست کو اس وقت تک مخالف نہیں سمجھتے جب تک کہ وہ ان کے خلاف معاندانہ کارروائی نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایسا کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی ہم نے ایسی کسی چیز پر دستخط کیے ہیں جو ایک مشترکہ خطرے کی وضاحت کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو ہم پر حملہ نہیں کرتا وہ ہمارے لیے ہدف نہیں ہے۔




