نجف: عراق کے شہر نجف میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد جمع ہو گئے ہیں، جبکہ دن بھر عزاداروں کی تعداد میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق جنازے کا جلوس نجف میں تقریباً 6 کلومیٹر طویل راستے سے گزرے گا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ اجتماع شہر میں ہونے والی اہم ترین مذہبی تقریبات میں شمار کیا جا رہا ہے اور عزاداروں کی بڑی تعداد مسلسل جلوس میں شامل ہو رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق عراق کے ممتاز شیعہ مذہبی رہنما علی السیستانی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر 90 برس سے زائد ہے اور شدید گرمی کے باعث وہ عوامی تقریب میں شریک ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی عدم شرکت کو کسی سیاسی مؤقف سے نہیں جوڑا جا رہا۔عراقی حکام کے مطابق نجف میں رسومات مکمل ہونے کے بعد علی خامنہ ای کا تابوت کربلا منتقل کیا جائے گا، جہاں مزید مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی۔کربلا میں بھی لاکھوں عزاداروں کی شرکت متوقع ہے۔ بعد ازاں شام کے وقت میت کو ایران منتقل کیا جائے گا، جہاں تدفین کی آخری رسومات مکمل کی جائیں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف مذہبی بلکہ علاقائی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین اور مذہبی شخصیات بھی شریک ہو رہی ہیں۔




