ماہرینِ صحت نے شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور گرمی سے ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے مناسب مقدار میں پانی پینا ناگزیر قرار دیا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق پسینے کے ذریعے جسم سے بڑی مقدار میں پانی اور ضروری نمکیات خارج ہو جاتے ہیں، جن کی بر وقت تلافی بے حد ضروری ہے، اس مقصد کے لیے روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینے کی تجویز دی جاتی ہے، جبکہ دھوپ میں طویل وقت گزارنے یا جسمانی مشقت کی صورت میں اس مقدار میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی ایک ہی وقت میں زیادہ مقدار میں پینے کے بجائے دن بھر وقفے وقفے سے پینا زیادہ مفید ہے جبکہ تربوز، کھیرے، مالٹے اور اسٹرابیری جیسے پانی سے بھرپور پھل اور سبزیاں جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ان میں موجود وٹامنز اور معدنیات مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور شدید گرمی کے منفی اثرات کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کافی اور چائے جیسے کیفین والے مشروبات جسم سے پانی کے اخراج میں اضافہ کر سکتے ہیں، اس لیے شدید گرمی کے دوران ان کا استعمال محدود رکھا جائے اور ان کی جگہ تازہ پھلوں کے جوس اور دیگر قدرتی مشروبات کو ترجیح دی جائے۔نمکیات کی کمی پوری کرنے کے لیے قدرتی الیکٹرولائٹ مشروبات بھی مفید ہیں، ایک گلاس پانی میں معمولی مقدار میں نمک اور لیموں شامل کر کے پینا پسینے کے ذریعے ضائع ہونے والے نمکیات کی تلافی میں مدد دیتا ہے، اسی طرح دہی اور لسی بھی سوڈیئم، پوٹاشیئم اور دیگر ضروری معدنیات کے اچھے ذرائع ہیں۔اس کے علاوہ ہلکے رنگ کے سوتی اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے سے جسم کا درجۂ حرارت معتدل رہتا ہے، پسینہ کم آتا ہے اور جسم سے پانی کا غیر ضروری اخراج محدود ہوتا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک، جب سورج کی تپش اپنے عروج پر ہوتی ہے، براہِ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں اور حتیٰ الامکان سایہ دار یا ایئر کنڈیشنڈ مقامات پر رہیں۔ماہرین کے مطابق شدید پیاس، منہ کا خشک ہونا، سر درد، تھکن اور پیشاب کی مقدار میں کمی جسم میں پانی کی کمی کی نمایاں علامات ہیں، ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر پانی اور دیگر مناسب مشروبات کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔




