جاپان کی توہوکو یونیورسٹی اور امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ارون کے محققین نے الزائمر کی بیماری سے متعلق ایک اہم دریافت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈوپامین کی کمی بھی یادداشت کی خرابی کی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔طبی جریدے نیچر نیورو سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق الزائمر پر ہونے والی بیشتر تحقیق اب تک دماغ میں ایمائلوئیڈ بِیٹا پلیکس اور ٹاؤ ٹینگلز پر مرکوز رہی۔ تاہم، ان پر مبنی علاج یادداشت بحال کرنے میں محدود کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈوپامین کے نظام میں خرابی بھی الزائمر کے مریضوں میں یادداشت کی کمزوری کا ایک اہم اور پہلے نظرانداز کیا گیا سبب ہے۔تحقیق کے مطابق اگر دماغ میں ڈوپامین کی سرگرمی کو بحال کیا جا سکے تو یہ الزائمر سے متاثرہ افراد میں یادداشت اور دیگر ذہنی صلاحیتوں کی بہتری کے لیے ایک نئی اور امید افزا علاجی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت الزائمر کے علاج سے متعلق مستقبل کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے، تاہم اس طریقۂ علاج کی مؤثریت ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں درکار ہوں گی۔




