نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضا میں تیرتے رنگین پلاسٹک کے باریک ذرات سورج کی روشنی کو سائنس دانوں کے اندازے سے کہیں زیادہ جذب کر سکتے ہیں، جس سے انسانوں کی پیدا کردہ گلوبل وارمنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔رواں ماہ سائنسی جرنل نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ہوا میں موجود مائیکرو پلاسٹکس اور نینو پلاسٹکس (خاص طور پر رنگین ذرات) زمین کے درجہ حرارت میں واضح اضافہ کر سکتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق محققین نے دریافت کیا کہ پلاسٹک کے یہ باریک ذرات ’بلیک کاربن‘ یعنی سُوٹ سے پیدا ہونے والی گرمی کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اثر ڈال سکتے ہیں۔تحقیق میں رنگ ایک اہم عنصر ثابت ہوا۔ سفید ذرات زیادہ تر روشنی کو واپس بکھیر دیتا ہے جبکہ گہرے رنگ کے پلاسٹک سورج کی روشنی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، یہاں تک کہ بے رنگ پلاسٹک کے مقابلے میں تقریباً 75 گنا زیادہ جذب کرتا ہے۔مائیکرو پلاسٹکس پہلے ہی پینے کے پانی، سمندری جانوروں، انسانی جسموں اور حتیٰ کہ اینٹارکٹیکا کی برف میں بھی دریافت ہو چکے ہیں۔اب یہ نئی تحقیق اشارہ دیتی ہے کہ مسئلہ صرف آلودگی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ذرات زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔یہ ان علاقوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک خبر ہے جو پہلے ہی شدید گرمی کی لہروں، بڑھتے بجلی کے بلوں اور موسمیاتی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیونکہ درجہ حرارت میں معمولی سا اضافہ بھی انسانی صحت، خوراک اور پانی کے نظام، اور محفوظ رہائشی ماحول کو برقرار رکھنا مزید مشکل بنا سکتا ہے۔




