اپریل 29, 2026

ڈوپامین کی بحالی سے الزائمرز بیماری میں یادداشت بحال ہونے کی نئی امید

جرنل نیچر نیورو سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں ڈوپامین کا ایک ایسا کردار سامنے آیا ہے جو پہلے معلوم نہیں تھا۔ یہ کردار الزائمرز بیماری سے جڑی ذہنی کمزوری سے تعلق رکھتا ہے۔یادداشت ہمیں مختلف تجربات کو آپس میں جوڑنے میں مدد دیتی ہے، جیسے کسی خوشبو کو کسی جگہ سے یا کسی آواز کو کسی واقعے سے جوڑنا۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یادداشت بنانے کا عمل دماغ کے ایک حصے، یعنی میڈیل ٹیمپورل لوب پر منحصر ہوتا ہے، جسے اکثر دماغ کا ’میموری سینٹر‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم، الزائمرز بیماری میں یہ نظام کیسے خراب ہوتا ہے، یہ اب تک واضح نہیں تھا۔محققین کی ٹیم جس کی قیادت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اروائن اسکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر کئی اگراچی کر رہے تھے نے اپنی تحقیق میں اینٹورہینل کورٹیکس پر توجہ دی۔ یہ حصہ یادداشت کے لیے نہایت اہم ہے اور ہپوکیمپس تک جانے والا ایک اہم راستہ بھی ہے۔اپنی پچھلی تحقیق میں ٹیم یہ دریافت کر چکی تھی کہ اس حصے میں یادداشت بنانے کے لیے ڈوپامین نہایت ضروری ہے۔اس نئی تحقیق میں انہوں نے جانچنے کی کوشش کی کہ کیا ڈوپامین کے اس نظام میں خرابی الزائمرز بیماری میں یادداشت کی کمزوری کی وجہ بنتی ہے۔چوہوں پر کیے گئے تجربات میں معلوم ہوا کہ اینٹورہینل کورٹیکس میں ڈوپامین کی مقدار معمول کے مقابلے میں پانچویں حصے سے بھی کم رہ گئی تھی اور دماغی خلیے ایسے محرکات پر صحیح ردِعمل نہیں دے رہے تھے جنہیں عام حالات میں سیکھا جانا چاہیے تھا۔