وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا موثر راستہ ہے۔یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس کی قیادت میں آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہزاروں سال پر محیط مشترکہ تاریخ اور ثقافتی رشتے موجود ہیں، افغانستان کی جنگ کے اثرات سے خیبر پختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ہیں جن کا مؤقف واضح ہے کہ جنگ اور فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں، موجودہ صورتحال کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا افغانستان کے ساتھ سالانہ 10 ارب روپے سے زائد کا تجارتی حجم شدید متاثر ہوا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نصاب اواسلام آباد ہائیکورٹ میں سی ڈی اے کے پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ٹرانفسر کیے گئے ججز میں شامل جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں سی ڈی اے کے پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک دلچسپ صورتحال پیدا کر دی جب درخواست گزار کے وکیل راجہ فیصل یونس اپنے دلائل سے عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔اس پر جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ وہ ان کے مؤقف سے قائل نہیں ہوئے، تاہم مزاحیہ انداز میں کہا کہ کیس کا فیصلہ کرنے کے بجائے اسے کسی نئے جج کے سامنے رکھ دیتے ہیں، ممکن ہے وہ اسے بہتر سمجھ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایک جج کسی کیس کو نہیں سمجھ پاتا جبکہ دوسرا سمجھ جاتا ہے، جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔اس دوران سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ وہ جسٹس محسن اختر کیانی کے سامنے پیش ہوتے رہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہو سکا، جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے جہاں عدالت کے باہر انکی کاز لسٹ بھی آویزاں کردی گئی۔واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی تھی۔ر کورسز میں اصلاحات کر رہی ہے، عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں تعلیم کا بجٹ کئی گنا بڑھایا گیا ہے اور تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انٹرمیڈیٹ سطح پر یتیموں اور طالبات کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے ایجوکیشن کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ووکیشنل اسکلز ترجیحی شعبہ جات ہیں، سینٹر آف ایکسی لینس مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک جدید ماڈل ہے۔ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے یورپی وفد کا خیر مقدم کیا اور سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام میں یورپی یونین کے تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کے حکام بھی موجود تھے۔




