وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جواب دینا چاہتا ہوں، تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز موجودہ صورتحال اور حکومت کے طرز عمل کے زاویے پر مولانا فضل الرحمان نے تبصرہ کیا،میں چاہتا تھا ان کا جواب اسی طرح ایوان کے سامنے رکھوں۔انہوں نے میرے لئے کنسرن شو کیا ہے میں اس کے لئے مشکور ہوں،تہران کے اندر کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سال سوا سال میں جنگ کی فتح کے بعد ایک کردار صلح کا ادا کیا ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے،میں دفاع کے دونوں معاہدوں میں شامل تھا، فیلڈ مارشل نے پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے بیان کا جواب دینا چاہتا ہوں، تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں میری موجودگی ضروری نہیں تھی، فیلڈ ارشل عاسم منیر امن کے پیامبر بن کر تہران گئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیلڈ مارشل عالمی قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں، فیلڈ مارشل نے ایک جنگ رکوائی ہے، یمن کا تنازع بگڑ سکتا تھا، ہمارے آپس کے اختلافات میں وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کل موجودہ صورتحال اور حکومت کے طرز عمل کے زاویئے پر مولانا فضل الرحمان نے تبصرہ کیا، مجھ ناچیز پر بھی تبصرہ ہوا، میں چاہتا تھا ان کا جواب اسی طرح ایوان کے سامنے رکھوں، تہران کے اندر کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ فلیڈ مارشل عاصم منیر نے سال سوا سال میں جنگ کی فتح کے بعد ایک کردار صلح کا ادا کیا ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے، میں دفاع کے دونوں معاہدوں میں شامل تھا، انہوں نے میرے لئے کنسرن شو کیا ہے میں اس کے لئے مشکور ہوں، تہران میں وزیر دفاع نہیں آئے تھے، تہران میں میری وہاں پہ ضرورت نہیں تھی، نکتہ چینی مس پلیس تھی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ضمن میں اور بھی باتیں کیں کہ وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں، ان کے والد بڑی عظیم شخصیت تھے، وہ نورا کشتی کے تحت اپوزیشن لیڈر بنے، کوئی ایسی پارٹی نہیں ہے ، سب کے ساتھ ان کا تعاون بھی رہا ہے حکمرانی میں شامل بھی رہے ہیں، وہ حکمرانی میں ہمارے حصہ دار تھے، ہم سب نے مل کے حکومت بنائی اس میں مولانا کا بڑا حصہ تھا۔انہوں نے کہا کہ میں کسی وقت پنڈی کے حق میں بولتا ہوں تو میری 2004 کی تقریر یاد کرائی جاتی ہے، سب کے ساتھ وہ شراکت میں رہے ہیں اقتدار کے، ماضی کو ڈیلیٹ کرکے مخالفوں پرجو اٹیک کرتے ہیں تو میرے میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے، میرا ماضی میرے دماغ میں فریش ہوتا ہے، میں واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی پر معذرت کی ہو،ایل ایف او کے تحت حکومت بنی آپ حکمرانی میں حصہ دار تھے۔خواجہ آصف نے کہا کہ آپ اپوزیشن لیڈر بھی تھے، دس سال کشمر کمیٹی کے بھی چیئرمین رہے، کشمیر کے ساتھ کیا واسطہ ہے ان کا، یہ لوگ تو پاکستان کی آزادی کے خلاف تھے، ان کو جو اعزازات دیئے گئے ہم نے دیئے غلط کیا، مجھے طعنہ دیتے ہیں آپ بھی تو کچھ شرم اور حیاء کریں، کن کن مراعات کو انجوائے کیا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے کیا کارنامہ ہائے انجام دیا ہے، فری رائیڈ لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔خواجہ آصف کی تقریر کے دوران جے یو آئی اراکین کی ہنگامہ اراہی کی، وزیر دفاع نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میری زبان نہ کھلوائیں، انھوں نے مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، پی ڈی ایم حکومت میں انھوں نے جو کچھ کیا پھر سب بتا دونگا۔اس دوران اپوزیش رکن عالیہ کامران نے کورم کی نشاندہی کر دی، ایوان کا کورم پورا نکلا۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خواتین ابھی بھی چپ نہیں کر رہیں، مولانا کے پاس کوئی مرد نہیں بچا خواتین سے دفاع کروا رہے ہیں، میں آپ لوگوں کو گھر چھوڑ کر آؤں گا، یہ اپنی لیڈر کی عزت نہیں کروانا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ میں سے ایوان میں 35 ،36 سال سے سیاست کر رہا ہوں، اس دوران خواجہ اصف نے شعر پڑھا کہ ’میرے ماضی کو دبا رہنے دو، میرا ماضی ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں‘، پاکستان نے اپنے اصلی دشمن کے خلاف فتح حاصل کی، انہوں نے اس کی تعریف نہیں کی، اگر تعریف کی تو اس میں کنجوسی سے کام لیا، یہ ایسا موقع تھا جس پر ساری قوم کو متحد ہونا چاہیے تھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہم نے ڈپلومیٹک فرنٹ پر بھی بہت کامیابیاں حاصل کیں، ہمیں دنیا بھر میں ابھرتا ہوا مقام ملا، ایران سمیت دنیا بھر میں اس کی ستائش کی، اگر کسی نے نہیں کیا،یا کنجوسی کی تو اس ایوان میں سے ایسا ہوا، کچھ معاملات ایسے ضرور موجود ہیں جن پہ ہم غیر مشروط طور پر اتحاد کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ بسوں ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے محنت کر حسد نہ کر، جے یو ائی والوں کو نصیحت کروں گا محنت کریں حسد نہ کریں، کل کا کچھ ادھار تھا جو میں نے آج اتار دیا ہے، جے یو آئی کو خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو مولانا کل کی تقریر نہ کرتے۔اس دوران جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ جو الزام لگائے جا رہے ہیں ان کا ثبوت دیا جائے ، اس پر خواجہ اصف نے کہا کہ اپ لوگوں کی جانب سے کل جو الزامات لگائے گئے ان کے کون سے ثبوت دیے، 10 سال بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی کیا کارکردگی رہی، بتائیں، صرف مراعات لینے کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں موجود لیڈروں کو قوم کو پیغام دینا چاہیے، ہمیں گروہی اور مفادات کی سیاست نہیں کرنی چاہیے ، ہمیں اس ملک کی حفاظت اور ترقی کی سیاست کرنی چاہیے، ہمیں دست و گریباں ہونے کی بجائے باہم راستے نکالنے چاہیے۔خواجہ آصف نے شعر پڑھا کہ ’کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں ، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘۔




