امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ایران کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران سے رابطے کا مقصد ایران کو طبی سامان کی فراہمی میں مدد دینا تھا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس رابطے کی منظوری دینے کا اعتراف کیا، لیکن اس کا مقصد ایران کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنا قرار دینے سے اختلاف کیا۔دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ وینس کے خط میں مستقبل کے کسی بھی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔یوں امریکی صدر کے بیان اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں خط کے مقصد کے حوالے سے مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ٹرمپ نے رابطے کو طبی سامان کی فراہمی سے متعلق قرار دیا، جبکہ میڈیا رپورٹس میں اسے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی بحالی کی کوشش کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر بھی غور کیے جانے کی اطلاع ہے۔ تاہم، مذاکرات کی بحالی یا کسی نئی فوجی کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔




