اکتوبر 18, 2026

چین: آئرن انجیکشن سے کینسر کے علاج میں پیشرفت

چینی سائنس دان کینسر کے علاج کے لیے ایک غیر روایتی طریقے پر توجہ دے رہے ہیں جس میں آئرن کے عنصر کو استعمال کیا جا رہا ہے۔اس خیال کی ابتدا صنعتی گندے پانی کو صاف کرنے کے عمل سے ہوئی۔ اس عمل میں آئرن ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے ساتھ ردِعمل کرکے ہائیڈروکسل ریڈیکلز پیدا کرتا ہے جو گندے پانی میں موجود مختلف نامیاتی اور زہریلے مالیکیولز کو توڑ دیتے ہیں۔چینی سائنس دانوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مہلک رسولیوں کے علاج کا طریقہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے لوہے کو نینو کاربن کے انجیکشن کے ساتھ ملایا گیا جس سے CNSI-Fe نامی نینو کاربن آئرن انجیکشن تیار کیا گیا۔ اس نام میں Fe فیرس آئرن کی علامت ہے۔چین کے مختلف اسپتالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی آزمائش کے دوران ڈاکٹروں نے یہ محلول آخری مراحل میں موجود رسولیوں کے شکار 19 مریضوں کی رسولیوں میں براہِ راست داخل کیا۔علاج کے بعد طبی نگرانی سے معلوم ہوا کہ ایڈوانس مرحلے کے کینسر میں مبتلا 16 مریضوں یعنی 84.2 فی صد میں رسولیوں کی افزائش رک گئی جبکہ ان میں سے دو مریضوں کی رسولیوں کے حجم میں کمی بھی دیکھی گئی۔یہ تحقیق یکم اکتوبر کو ہم مرتبہ ماہرین کے جائزے سے گزرنے والے سائنسی جرنل سِگنل ٹرانسڈکشن اینڈ ٹارگٹڈ تھراپی میں شائع ہوئی۔ویسٹ چائنا اسپتال کے کینسر سینٹر اور ویسٹ چائنا اسکول آف میڈیسن کے شعبہ آنکولوجی کے ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر وانگ یونگ شینگ نے اس علاج کے پہلے مرحلے کی کلینیکل آزمائش کی قیادت کی، جو چین کے صوبوں سیچوان، ہوبے اور شانڈونگ کے تین اسپتالوں میں مکمل ہوئی۔اب چین کے 10 بڑے اسپتالوں میں دوسرے مرحلے کی کلینیکل آزمائش جاری ہے جس میں 52 مریضوں پر اس علاج کی حفاظت اور افادیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔