واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا میں اس وقت پیٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، تاہم ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ ختم ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے پیٹرول کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کو قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک ملک کی جانب سے عالمی توانائی کی ترسیل روکنے کی ایسی صورت حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی ترسیل جاری رکھنے میں کردار ادا نہ کر رہی ہوتی تو پیٹرول کی قیمتیں موجودہ سطح سے تین گنا زیادہ ہوسکتی تھیں۔وینس کے مطابق اگر امریکا اس خطے سے پیچھے ہٹ جائے اور ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت پر کنٹرول حاصل ہوجائے تو امریکی شہریوں کو پیٹرول کے لیے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات منتقل کی جاتی ہیں۔ اس راستے میں رکاوٹوں یا سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور ایندھن کے اخراجات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔جے ڈی وینس نے قیمتوں میں کمی کی امید ظاہر کی، تاہم ان کے بیان میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے کوئی مخصوص تاریخ یا متوقع نرخ نہیں بتائے گئے۔




