اگست 14, 2026

ایران میں آبنائے ہرمز سے متعلق اہم منصوبے کی منظوری، امریکا اور اسرائیل کے جہازوں پر پابندی کی تیاری

ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور سکیورٹی سے متعلق ایک اہم تزویراتی منصوبے کے عمومی خدوخال کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس منصوبے میں امریکا، اسرائیل اور بعض دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں اور آلات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ ایرانی پارلیمنٹ کی کونسلز کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا، جہاں ارکان کی آرا سننے کے بعد اس کے عمومی اصولوں کی منظوری دی گئی۔ کمیٹی کے ترجمان ولی اللہ بیاتی نے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کو بتایا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی سکیورٹی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیے گئے تزویراتی ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے مختلف ارکان کی آرا سننے کے بعد منصوبے کے عمومی خاکے کی منظوری دی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی حتمی منظوری اور عملی نفاذ کے لیے مزید مراحل باقی ہوسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے کی ایک اہم شق میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے لیے دشمن ممالک قرار دیے جانے والے بعض دیگر ملکوں کی ملکیت میں موجود بحری جہازوں اور متعلقہ آلات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کی تجویز شامل ہے۔ولی اللہ بیاتی نے اس اقدام کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا اور ایرانی عوام کے خلاف غیر منصفانہ اور جارحانہ اقدامات کیے۔آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس راستے کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں بحری آمدورفت سے متعلق کسی بھی نئی پابندی کے علاقائی اور عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ایران کی جانب سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور شدید کشیدگی جاری ہے اور آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں تجارتی اور تیل بردار بحری جہازوں کو ڈرون حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس تزویراتی منصوبے کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس اہم سمندری راستے کی نگرانی اور آمدورفت کے معاملے میں اپنے اختیار کو مزید منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم مجوزہ پابندیوں کے عملی نفاذ، ان کا دائرہ کار اور مختلف ممالک کے بحری جہازوں پر ان کے اطلاق سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔