مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ یہ پیش گوئیاں زور پکڑ گئی تھیں کہ اے آئی دفتری ملازمتوں کی بڑی تعداد ختم کر دے گی اور سفید پوش طبقے کے لیے روزگار کا بحران پیدا ہوجائے گا لیکن 2026ء تک دستیاب اعداد و شمار نے اس خدشے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض سربراہان نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ اے آئی آنے والے برسوں میں بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم کرسکتی ہے، حتیٰ کہ بعض پیش گوئیوں میں ابتدائی سطح کی دفتری ملازمتوں کے بڑے حصے کے خاتمے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔البتہ اسٹینفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک پالیسی ریسرچ کی ایک تازہ تحقیق نے ایک حوصلہ افزا خبر دی ہے کہ اس وقت اے آئی کا مجموعی روزگار پر اثر نسبتاً محدود ہے لیکن مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔تحقیق میں 2022 یعنی چیٹ جی پی ٹی کے عام ہونے کے بعد اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 20 فیصد شعبوں میں بے روزگاری میں تقریباً 0.77 فیصد پوائنٹس اضافہ دیکھا گیا جبکہ اے آئی سے کم متاثرہ شعبوں میں یہ اضافہ 0.85 فیصد پوائنٹس رہا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال مجموعی طور پر اعداد و شمار ابھی بڑے پیمانے پر اے آئی کی وجہ سے ملازمتوں کے خاتمے کی واضح تصویر پیش نہیں کرتے۔ اصل تبدیلی اس وقت ملازمتوں کی تعداد سے زیادہ ملازمت کے طریقۂ کار میں نظر آرہی ہے اب کئی ادارے ایسے کاموں کو خودکار بنا رہے ہیں جو پہلے ملازمین انجام دیتے تھے بعض عہدوں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے میں ضم کی جارہی ہیں اور نئی بھرتیوں کے بجائے موجودہ عملے سے زیادہ کام لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگرچہ اے آئی کے فی الحال مجموعی روزگار پر اثر محدود ہے لیکن تحقیق میں نئے گریجویٹس اور ابتدائی کیریئر والے ملازمین کے لیے صورتحال زیادہ تشویش ناک قرار دی گئی ہے۔2026ء کے آغاز میں امریکا میں حالیہ گریجویٹس کی بے روزگاری کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو قومی اوسط سے زیادہ تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں اے آئی کا کچھ کردار ہوسکتا ہے کیونکہ ابتدائی سطح کی بہت سی ملازمتوں میں تحقیق، ڈیٹا کا تجزیہ، تحریر اور معمول کے دفتری کام شامل ہوتے ہیں جنہیں اے آئی اب نسبتاً آسانی سے انجام دے سکتی ہے۔تاہم شرحِ بے روزگاری میں اضافے کو صرف اے آئی سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا؛ شرحِ سود، وبا کے دوران ضرورت سے زیادہ بھرتیاں اور ریموٹ ورک میں تبدیلیاں بھی اس پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔اسٹینفورڈ کی ہی ایک اور تحقیق میں اے آئی سے زیادہ متاثرہ شعبوں کے 22 سے 25 سالہ کارکنوں کی ملازمت میں نسبتاً نمایاں کمی بھی دیکھی گئی جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ اے آئی کا ابتدائی اثر نوجوان اور کم تجربہ کار کارکنوں پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔
اب ڈگری سے زیادہ ’اے آئی اسکل‘؟
اے آئی کے دور میں ملازمت حاصل کرنے کا معیار بھی تبدیل ہورہا ہے۔ کمپنیوں کو ایسے افراد زیادہ درکار ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنا جانتے ہوں انہیں اپنے کام میں شامل کرسکیں اور کم وقت میں زیادہ بہتر نتیجہ دے سکیں۔اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملازم کو پروگرامر بننا ہوگا بلکہ مختلف شعبوں میں اے آئی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ایک اضافی مہارت بنتی جارہی ہے۔ یعنی مستقبل میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ امیدوار کیا جانتا ہے بلکہ یہ بھی ہوگا کہ وہ اے آئی کو استعمال کرکے اپنے کام کی رفتار اور معیار کو کس حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔
اے آئی کچھ ملازمتیں لے گی، نئی ملازمتیں بھی بنائے گی
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی بڑی تبدیلیاں عموماً صرف ملازمتیں ختم نہیں کرتیں بلکہ کام کی نوعیت بدلتی ہیں اور نئی ملازمتیں بھی پیدا کرتی ہیں۔اے آئی کے نتیجے میں ایسے ماہرین کی ضرورت بڑھ رہی ہے جو مصنوعی ذہانت کے نظام تیار، نافذ، فروخت، نگرانی اور مرمت کرسکیں۔ اس کے ساتھ ایسے ملازمین کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے جو اے آئی کے نتائج کی جانچ، فیصلہ سازی، تخلیقی کام اور انسانی رابطے جیسے شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔اسٹینفورڈ کی تحقیق بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے معاشی اثرات اکثر فوری طور پر سامنے نہیں آتے؛ کمپیوٹر انقلاب کی طرح اے آئی کو بھی کمپنیوں کے نظام، ملازمین کی تربیت اور کام کے طریقوں میں مکمل طور پر شامل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
’مستقل ملازمت‘ کے بجائے فری لانس کام؟
دوسری جانب ماہرین کو خدشہ ہے کہ اے آئی طویل مدت میں ملازمتوں کے معیار کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ بعض کمپنیوں کے لیے مستقل ملازمین رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق فری لانسرز، کنٹریکٹرز اور عارضی کارکنوں سے کام لینا آسان ہوسکتا ہے۔اس صورت میں ملازمت تو موجود رہے گی لیکن ملازم کو ترقی، مستقل آمدنی اور طویل مدتی کیریئر کی وہ سہولت نہیں ملے گی جو روایتی ملازمت میں ہوتی ہے۔تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی اپنانے والی کمپنیوں میں اب تک روزگار پر مجموعی اثر محدود رہا ہے، جبکہ کمپنیوں کے مستقبل کے اندازے اس سے کہیں زیادہ بڑے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ایک بین الاقوامی کاروباری مطالعے میں زیادہ تر اداروں نے گزشتہ تین برسوں میں اے آئی کے باعث ملازمت یا پیداواری صلاحیت پر کوئی بڑا اثر نہ پڑنے کی اطلاع دی، لیکن آئندہ برسوں میں ملازمتوں میں کمی کی توقع رکھنے والے اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
اصل مقابلہ نوکریوں کا نہیں، مہارتوں کا؟
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین کے نزدیک اے آئی کے دور کا سب سے بڑا چیلنج شاید یہ نہیں کہ کتنی ملازمتیں ختم ہوں گی بلکہ یہ ہے کہ کتنی ملازمتوں کے لیے نئی مہارتیں درکار ہوں گی۔یعنی اے آئی ابھی بڑے پیمانے پر انسانوں کی جگہ نہیں لے رہی، لیکن وہ ایسے ملازمین کو ضرور پیچھے چھوڑ سکتی ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ کارکن صرف یہ انتظار نہ کریں کہ اے آئی ان کی نوکری ختم کرے گی یا نہیں، بلکہ اپنی موجودہ مہارت کے ساتھ اے آئی کو استعمال کرنا سیکھیں۔اعلیٰ مہارت رکھنے والے کارکنوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ کرنا اہم ہوگا، جبکہ کم اجرت اور کم مہارت والے کارکنوں کے تحفظ کے لیے حکومتی پالیسیوں کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔




