اگست 14, 2026

3 منٹ کی وہ ورزش جو 90 منٹ کی سائیکلنگ سے زیادہ فائدہ مند ہوسکتی ہے؛ تحقیق

ایک نئی تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ ورزش کے لیے روزانہ گھنٹوں کا وقت نکالنا ضروری نہیں صرف چند منٹ کی انتہائی تیز جسمانی سرگرمی بھی جسم میں نمایاں حیاتیاتی تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے۔ایک مؤقر سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے شدید ورزش کے بعد خون میں سیکڑوں پروٹینز میں تبدیلیاں ریکارڈ کی ہیں جن کا تعلق دل، میٹابولزم اور جسمانی چربی سمیت صحت کے متعدد پہلوؤں سے ہے۔تحقیق میں خاص طور پر مختصر دورانیے کی ہائی انٹینسٹی سائیکلنگ اور معمول کی رفتار سے کی جانے والی ورزش کے جسم پر اثرات کا موازنہ کیا گیا۔اس تحقیق میں شرکا نے ایکسرسائز بائیک پر 30، 30 سیکنڈ کے شدید رفتار والے سائیکلنگ وقفے کیے جن کے درمیان تقریباً 4 منٹ آرام رکھا گیا۔نتائج میں شدید ورزش کے بعد خون میں 714 پروٹینز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں جبکہ معمول کی رفتار سے سائیکلنگ کے بعد صرف 7 پروٹینز میں ایسی تبدیلی ریکارڈ ہوئی۔اس سے محققین کو اندازہ ہوا کہ ورزش کی شدت جسم میں پیدا ہونے والے حیاتیاتی ردعمل پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
تیز اور شدید ورزش کے بعد جسم میں کیا ہوتا ہے؟
شدید جسمانی سرگرمی کے دوران جسم میں مختلف کیمیائی سگنلز فعال ہوجاتے ہیں۔ ان میں Lac-Phe نامی مالیکیول بھی شامل ہے، جسے ورزش کے بعد بھوک اور توانائی کے استعمال سے متعلق حیاتیاتی عمل سے جوڑا گیا ہے۔محققین کے مطابق شدید ورزش سے پیدا ہونے والے یہ سگنلز جسم کے میٹابولزم اور چربی کے خلیوں کے کام کو متاثر کرسکتے ہیں۔تحقیق میں سامنے آنے والی بعض پروٹین تبدیلیاں ایسے حیاتیاتی راستوں سے بھی منسلک تھیں جو دل کی بیماری، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے جیسے مسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔تحقیق میں بڑے پیمانے پر انسانی ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں 53 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا۔تجزیے سے معلوم ہوا کہ شدید ورزش سے متاثر ہونے والے بعض پروٹینز صحت مند عمر رسیدگی، قلبی صحت اور میٹابولک بیماریوں کے خطرے سے وابستہ تھے۔تاہم ماہرین کی جانب سے ان نتائج کو یہ ثابت کرنے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ 3 منٹ کی ورزش ہر شخص کے لیے 90 منٹ کی سائیکلنگ کا مکمل متبادل ہے۔مختلف قسم کی ورزشیں جسم پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہیں اور برداشت، پٹھوں، دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے طویل دورانیے کی معتدل ورزش بھی اہم ہوسکتی ہے۔تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ورزش کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ہر شخص کو روزانہ طویل ورزش کا وقت نکالنا ضروری نہیں ہوسکتا۔دفتر، کاروبار یا دیگر مصروفیات میں گھرے افراد مختصر مگر نسبتاً شدید ورزش کو اپنے معمول کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم ہائی انٹینسٹی ورزش ہر شخص کے لیے یکساں موزوں نہیں ہوتی، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو طویل عرصے سے ورزش نہیں کررہے یا جنہیں کوئی طبی مسئلہ لاحق ہو۔