جولائی 8, 2026

نیٹو امریکا کی حمایت میں میدان میں آگیا، ایران پر نئے حملوں کو ’ضروری اقدام‘ قرار دے دیا

انقرہ: نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران پر امریکا کے حالیہ فضائی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد واشنگٹن کی فوجی کارروائی ’بالکل ضروری‘ تھی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارک روٹے نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی موجود ہو اور ایک فریق اس کی خلاف ورزی کرے تو ایسے حالات میں امریکا کا مضبوط ردعمل دینا انتہائی اہم ہے۔مارک روٹے نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد امریکا کی فوری اور مؤثر کارروائی ضروری تھی تاکہ صورت حال مزید خراب نہ ہو اور خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔نیٹو سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کو غیر قانونی جارحیت قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ تہران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو سربراہ کی جانب سے امریکی کارروائی کی کھلی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مغربی اتحاد اس معاملے پر واشنگٹن کے مؤقف کے قریب دکھائی دے رہا ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔