کراچی : کسی بھی بیوٹی پارلر جانے سے پہلے خواتین ان بنیادی باتوں کا خیال لازمی رکھیں تاکہ انفیکشنز اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں ماہر بیوٹیشن بینش نے بتایا کہ بیوٹی پارلر میں صفائی ستھرائی کا مؤثر نظام نہ ہونے کے سبب جراثیم زدہ برش، کنگھیاں اور میک اپ آلات ڈینڈرف، انفیکشن، جُوؤں اور جلدی مسائل کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بیوٹی سیلون کا انتخاب صرف اچھے میک اپ یا ہیئر اسٹائل کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے بلکہ وہاں صفائی کے معیار کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ استعمال شدہ آلات بغیر دھوئے استعمال کرنا مختلف جلدی اور بالوں کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیشتر افراد کسی بیوٹی پارلر کا انتخاب میک اپ آرٹسٹ یا ہیئر اسٹائلسٹ کی مہارت دیکھ کر کرتے ہیں، تاہم یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ وہاں استعمال ہونے والے برشز، کنگھیاں اور دیگر آلات کو باقاعدگی سے صاف اور جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیلون میں استعمال ہونے والی کنگھیوں اور برشز کو روزانہ دھونا اور جراثیم کش محلول سے صاف کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر مختلف انفیکشنز جیسے مسائل ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق صارفین کو ایسے بیوٹی پارلر کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں برشز اور کنگھیوں کو باقاعدہ طور پر سینیٹائز کیا جاتا ہو، چاہے یہ عمل دستی طور پر ہو یا خصوصی مشینوں کے ذریعے۔اس موقع پر انہوں نے میک اپ برشز کی صفائی کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید سیلونز میں اب متعدد اشیا مثلاً مسکارا برشز، آئی لائنر ایپلی کیٹرز اور دیگر میک اپ ٹولز ڈسپوزیبل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ آنکھوں اور جلد کے جراثیم ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل نہ ہوں۔
گھریلو استعمال کے حوالے سے بیوٹیشن بینش نے مشورہ دیا کہ جو خواتین روزانہ میک اپ کرتی ہیں وہ ہر تین دن بعد اپنے میک اپ برشز لازمی صاف کریں۔ مہنگے برشز کے لیے خصوصی برش کلینرز استعمال کیے جائیں کیونکہ سخت صفائی والے کیمیکل برش کے ریشوں اور گوند کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اسی طرح بیوٹی بلینڈر یا میک اپ اسپنج کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے ہر استعمال سے قبل اچھی طرح دھونا چاہیے اور اگر روزانہ استعمال کیا جاتا ہو تو کم از کم ایک ماہ بعد اسے تبدیل کر دینا چاہیے کیونکہ اس میں بیکٹیریا جمع ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔




